365 دن (حصہ اول) — Page 204
درس روحانی خزائن درس روحانی خزائن نمبر 39 حضرت مسیح موعود علیہ السلام بیان فرماتے ہیں:۔204 یاد رہے کہ کفر اور ایمان کا فیصلہ تو مرنے کے بعد ہو گا اس کے لئے دنیا میں کوئی عذاب نازل نہیں ہوتا اور جو پہلی امتیں ہلاک کی گئیں وہ کفر کے لئے نہیں بلکہ اپنی شوخیوں اور شرارتوں اور ظلموں کی وجہ سے ہلاک ہوئیں۔فرعون بھی اپنے کفر کے باعث سے ہلاک نہیں ہوا بلکہ اپنے ظلم اور زیادتی کی وجہ سے ہلاک ہوا۔محض کفر کے سبب سے اس دنیا میں کسی پر عذاب نازل نہیں ہو تا۔اگر کوئی کافر ہو مگر غریب مزاج اور آہستہ رو ہو اور ظالم نہ ہو تو اس کے کفر کا حساب قیامت کے دن ہو گا۔اس دنیا میں ہر ایک عذاب ظلم اور بدکاری اور شوخیوں اور شرارتوں کی وجہ سے ہوتا ہے اور ایسا ہی ہمیشہ ہو گا۔اگر خدا تعالیٰ کی نظر میں لوگ شوخ طبع اور متکبر اور ظالم اور بے خوف اور مردم آزار ہوں گے خواہ وہ مسلمان ہوں خواہ ہند و خواہ عیسائی عذاب سے بچ نہیں سکیں گے۔کاش لوگ اس بات کو سمجھیں اور غریب مزاج اور بے شر انسان بن جائیں۔خدا تعالیٰ کسی کو عذاب دے کر کیا کرے گا اگر وہ اُس سے ڈرتے رہیں۔خدا تعالیٰ کے تمام نبی رحمت کے لئے آئے اور جس نے رحمت کو قبول نہ کیا اُس نے عذاب مانگا۔ہر پاک نبی جو دنیا میں آیا وہ رحمت کا پیغام لے کر آیا اور عذاب خدا سے نہیں بلکہ لوگوں نے اپنی کرتوتوں سے آپ پیدا کیا۔“ مشکل الفاظ کے معانی: آہستہ رو سست رفتار مردم آزار آدمیوں کو ستانے والا ، ظالم ایام الصلح روحانی خزائن جلد 14 صفحہ 346،347) کرتوتوں برا کام، ناشائستہ حرکت