365 دن (حصہ اول) — Page 200
درس روحانی خزائن درس روحانی خزائن نمبر 36 حضرت مسیح موعود علیہ السلام بیان فرماتے ہیں:۔200 ” خدا تعالیٰ نے ہمارے نبی صلی علیم کے سوانح کو دو حصوں پر منقسم کر دیا۔ایک حصہ دکھوں اور مصیبتوں اور تکلیفوں کا اور دوسرا حصہ فتحیابی کا۔تا مصیبتوں کے وقت میں وہ خلق ظاہر ہوں جو مصیبتوں کے وقت ظاہر ہوا کرتے ہیں اور فتح اور اقتدار کے وقت میں وہ خلق ثابت ہوں جو بغیر اقتدار کے ثابت نہیں ہوتے۔سو ایسا ہی آنحضرت صلی علیم کے دونوں قسم کے اخلاق دونوں زمانوں اور دونوں حالتوں کے وارد ہونے سے کمال وضاحت سے ثابت ہو گئے۔چنانچہ وہ مصیبتوں کا زمانہ جو ہمارے نبی صلی للی کم پر تیرہ برس تک مکہ معظمہ میں شامل حال رہا۔اس زمانہ کی سوانح پڑھنے سے نہایت واضح طور پر معلوم ہوتا ہے کہ آنحضرت صلی یم نے وہ اخلاق جو مصیبتوں کے وقت کامل راستباز کو دکھلانے چاہئیں یعنی خدا پر توکل رکھنا اور جزع فزع سے کنارا کرنا اور اپنے کام میں سست نہ ہونا اور کسی کے رعب سے نہ ڈرنا ایسے طور پر دکھلا دیئے جو کفار ایسی استقامت کو دیکھ کر ایمان لائے اور شہادت دی کہ جب تک کسی کا پورا بھروسہ خدا پر نہ ہو تو اس استقامت اور اس طور سے دکھوں کی برداشت نہیں کر سکتا۔اور پھر جب دوسرا زمانہ آیا یعنی فتح اور اقتدار اور ثروت کا زمانہ ، تو اس زمانہ میں بھی آنحضرت صلی لی نام کے اعلیٰ اخلاق عفو اور سخاوت اور شجاعت کے ایسے کمال کے ساتھ صادر ہوئے جو ایک گروہ کثیر کفار کا انہی اخلاق کو دیکھ کر ایمان لایا۔دکھ دینے والوں کو بخشا اور شہر سے نکالنے والوں کو امن دیا۔ان کے محتاجوں کو مال سے مالا مال کر دیا اور قابو پا کر اپنے بڑے بڑے دشمنوں کو بخش دیا۔چنانچہ بہت سے لوگوں نے آپ کے اخلاق دیکھ کر گواہی دی کہ جب تک کوئی خدا کی طرف سے اور حقیقتار استباز نہ ہو یہ اخلاق ہر گز دکھلا نہیں سکتا۔“ (اسلامی اصول کی فلاسفی روحانی خزائن جلد 10 صفحہ 447) مشکل الفاظ کے معانی: سوانح حالات زندگی خُلق خوش مزاجی ، عادت وارد ہونا پیش آنا جزع فزع رونا دھونا ثروت مال