365 دن (حصہ اول)

by Other Authors

Page 198 of 208

365 دن (حصہ اول) — Page 198

درس روحانی خزائن درس روحانی خزائن نمبر 35 حضرت مسیح موعود علیہ السلام بیان فرماتے ہیں:۔198 اپنی جماعت کے لئے اطلاع : یاد رہے کہ یہ اشتہار محض اس غرض سے ال شائع کیا جاتا ہے کہ تا میری جماعت خدا کے آسمانی نشانوں کو دیکھ کر ایمان اور نیک عملوں میں ترقی کرے اور ان کو معلوم ہو کہ وہ ایک صادق کا دامن پکڑ رہے ہیں نہ کاذب کا۔اور تاوہ راستبازی کے تمام کاموں میں آگے بڑھیں اور اُن کا پاک نمونہ دنیا میں چمکے۔ان دنوں میں وہ چاروں طرف سے سن رہے ہیں کہ ہر ایک طرف سے مجھ پر حملے ہوتے ہیں اور نہایت اصرار سے مجھ کو کافر اور دجال اور کذاب کہا جاتا ہے اور قتل کرنے کے لئے فتوے لکھے جاتے ہیں۔پس ان کو چاہیے کہ صبر کریں اور گالیوں کا گالیوں کے ساتھ ہر گز جواب نہ دیں اور اپنا نمونہ اچھا دکھاویں۔کیونکہ اگر وہ بھی ایسی ہی درندگی ظاہر کریں جیسا کہ اُن کے مقابل پر کی جاتی ہے تو پھر اُن میں اور دوسروں میں کیا فرق ہے۔اس لئے میں سچ سچ کہتا ہوں کہ وہ ہر گز اپنا اجر پا نہیں سکتے جب تک صبر اور تقویٰ اور عفو اور در گذر کی خصلت سب سے زیادہ اُن میں نہ پائی جائے۔اگر مجھے گالیاں دی جاتی ہیں تو کیا یہ نئی بات ہے ؟ کیا اس سے پہلے خدا کے پاک نبیوں کو ایسا ہی نہیں کہا گیا؟ اگر مجھ پر بہتان لگائے جاتے ہیں تو کیا اس سے پہلے خدا کے رسولوں اور راستبازوں پر الزام نہیں لگائے گئے ؟ کیا حضرت موسیٰ پر یہ اعتراض نہیں ہوئے کہ اُس نے دھوکہ دے کر نا حق مصریوں کا مال کھایا اور جھوٹ بولا کہ ہم عبادت کے لئے جاتے ہیں اور جلد واپس آئیں گے اور عہد توڑا اور کئی شیر خوار بچوں کو قتل کیا؟ اور کیا حضرت داؤد کی نسبت نہیں کہا گیا کہ اُس نے ایک بیگانہ کی عورت سے بدکاری کی اور فریب سے اور یا نام ایک سپہ سالار کو قتل کر دیا اور بیت المال میں ناجائز دست اندازی کی؟ اور کیا ہارون کی نسبت یہ اعتراض نہیں کیا گیا کہ اُس نے گوسالہ پرستی کرائی ؟ اور کیا یہودی اب تک نہیں کہتے کہ یسوع مسیح نے دعویٰ کیا تھا کہ میں داؤد کا تخت قائم کرنے آیا ہوں اور یسوع کے اس لفظ سے بجز اس کے کیا مراد تھی کہ اُس نے اپنے بادشاہ ہونے کی پیشگوئی