365 دن (حصہ اول) — Page 184
درس روحانی خزائن درس روحانی خزائن نمبر 25 184 حضرت بانی سلسلہ احمدیہ علیہ السلام اپنے محبوب حضرت محمد مصطفی صلیا نام کی ابتدائی عمر کی مجاہدانہ زندگی کا ذکر کرتے ہوئے تحریر کرتے ہیں:۔”ہمارے سید و مولی مئی ایم نے ایک بڑا حصہ عمر کا جو چالیس برس ہے بیکسی اور پریشانی اور یتیمی میں بسر کیا تھا کسی خویش یا قریب نے اس زمانہ تنہائی میں کوئی حق خویشی اور قرابت کا ادا نہیں کیا تھا یہاں تک کہ وہ روحانی بادشاہ اپنی صغر سنی کی حالت میں لاوارث بچوں کی طرح بعض بیابان نشین اور خانہ بدوش عورتوں کے حوالہ کیا گیا اور اُسی بے کسی اور غریبی کی حالت میں اس سید الانام نے شیر خوارگی کے دن پورے کئے اور جب کچھ سن تمیز پہنچا تو یتیم اور بے کس بچوں کی طرح جن کا دنیا میں کوئی بھی نہیں ہوتا اُن بیابان نشین لوگوں نے بکریاں چرانے کی خدمت اُس مخدوم العالمین کے سپرد کی اور اُس تنگی کے دنوں میں بجز ادنیٰ قسم کے اناجوں یا بکریوں کے دودھ کے اور کوئی غذا نہ تھی جب سن بلوغ پہنچا تو آنحضرت صلی الم کی شادی کے لئے کسی چچا وغیرہ نے باوجود آنحضرت کے اول درجہ کے حسن وجمال کے کچھ فکر نہیں کی بلکہ پچیس برس کی عمر ہونے پر اتفاقی طور پر محض خدائے تعالیٰ کے فضل وکرم سے ایک مکہ کی رئیسہ نے آنحضرت صلی اللہ ملک کو اپنے لئے پسند کر کے آپ سے شادی کر لی یہ نہایت تعجب کا مقام ہے کہ جس حالت میں آنحضرت صلی ال نیم کے حقیقی چچا ابو طالب اور حمزہ اور عباس جیسے موجود تھے اور بالخصوص ابوطالب رئیس مکہ اور اپنی قوم سردار بھی تھے اور دنیوی جاہ و حشمت و دولت و مقدرت بہت کچھ رکھتے تھے مگر باوجود ان لوگوں کی ایسی امیرانہ حالت کے آنحضرت صلی علیم کے وہ ایام بڑی مصیبت اور فاقہ کشی اور بے سامانی سے گذرے یہاں تک کہ جنگلی لوگوں کی بکریاں چرانے تک نوبت پہنچی اور اس دردناک حالت کو دیکھ کر کسی کے آنسو جاری نہیں ہوئے اور آنحضرت صلی للی کم کی عمر شباب پہنچنے کے وقت کسی چچا کو خیال تک نہیں آیا کے