365 دن (حصہ اول)

by Other Authors

Page 168 of 208

365 دن (حصہ اول) — Page 168

168 درس روحانی خزائن درس روحانی خزائن نمبر 14 حضرت مسیح موعود علیہ السلام بیان فرماتے ہیں:۔عملوں پر جن کو اللہ تعالیٰ دنیا میں تکالیف دیتا ہے اور جو لوگ خود خدا تعالیٰ کے لیے دُکھ اُٹھاتے ہیں۔اُن دونوں کو خدا تعالیٰ آخرت میں بدلہ دیگا۔دنیا تو چلنے کا مقام ہے، رہنے کا نہیں۔اگر کوئی شخص سارے سامان خوشی کے رکھتا ہے ، تو خوشی کا مقام نہیں۔یہ سب آرام اور دُکھ ختم ہونے والے ہیں اور اس کے بعد ایک ایسا جہان آنیوالا ہے جو دائمی ہے۔جو لوگ اس مختصر جہاں میں انسانی بناوٹ میں فرق اور کمی بیشی دیکھ کر دوسرے جنم کے گناہوں اور محمول کر لیتے ہیں وہ غلطی پر ہیں۔وہ یہ معلوم نہیں کرتے کہ آخرت کا ایک بڑا جنم آنیوالا ہے اور جن کو خد اتعالیٰ نے پیدائش میں کوئی نقص عطا کیا ہے اور جن لوگوں نے اپنے آپ کو خود بخود خدا تعالیٰ کی رضامندی حاصل کرنے کے لیے دُکھوں میں ڈال دیا ہے ان دونوں کو وہاں چل کر بدلہ ملے گا۔یہ جہان تو تخم ریزی کا جہان ہے اور ایسے موقع حاصل کرنے کے واسطے ہے۔جن سے خدا تعالیٰ راضی ہو۔بعض لوگ اپنے عملوں سے خدا کو راضی کرتے اور بعض اپنے آپ کو تکالیف میں ڈال کر خدا کو راضی کرتے ہیں۔ایک شخص کے دو خدمتگار ہیں۔ایک کو وہ ایسے کام اور سفر پر روانہ کرتا ہے کہ جہاں اس کو سواری مل سکتی اور راستہ میں بھی سایہ دار اور ٹھنڈا ہے اور ہر طرح کا آرام ہے۔دوسرے خدمتگار کو ایسی طرف روانہ کرتا ہے جس راستہ میں نہ تو سواری مل سکتی ہے اور نہ سایہ ہے بلکہ پیدل چلنا اور سخت گرمی اور دھوپ اور لُو کا سامنا ہے۔مگر وہ جانتا ہے کہ جس کو جتنی تکلیف ہو گی اس کو اتنا ہی بدلہ اور عوض خدمت دوں گا۔پس پھر ان دونوں خدمتگاروں کو اپنے سفر پر کیا اعتراض ہے ؟ اس طرح لنگڑے ، اندھے ، اپاہج ، غریب، فقیر وغیرہ لوگ جو خدا تعالیٰ نے پیدا کئے ہیں اُن کو جب اس آخری جہان میں چل کر بدلہ ملنا ہے تو کیا ضرورت ہے کہ ہم گوناگوں جنم مان لیں اور اس بڑے اور حقیقی جنم سے اعتراض کریں۔جو دُکھ اللہ تعالیٰ نے دیئے ہیں۔وہ تو ثواب حاصل کرنے کو دیئے ہیں، جبکہ وہ رحم کر نیوالا ہے تو