بیسویں صدی کا علمی شاہکار

by Other Authors

Page 50 of 232

بیسویں صدی کا علمی شاہکار — Page 50

50 : نهایت درجه جلی عنوان سے ایک مضمون شائع کیا جس کے راقم ایک صاحب نورالدین آف ایبٹ آباد تھے۔اس مضمون کی تمہید میں مقالہ نگار نے حضرت بانی سلسلہ احمدیہ کا نام لئے بغیر آپ کا ایک فارسی شعر نقل کیا اور تسلیم کیا کہ اگر چہ مرسلین ، اولیائے کرام، صوفیائے عظام اور علمائے کرام نے بھی آنحضور ملی وی کی تعریف کی ہے مگر اصل تعریف اسی شعر میں بیان ہوئی ہے۔چنانچہ انہوں نے لکھا:۔" آج میلاد النبی کا دن ہے کہ حضور علیہ الصلوۃ والسلام کا ظہور آج کے دن ہوا۔آج حضور علیہ الصلوۃ و السلام پر درود و سلام بھیجا جاتا ہے۔حضور علیہ الصلوۃ والسلام کی تعریف تو انسان کی طاقت سے باہر ہے۔حضرت آدم سے لے کر قیام قیامت تک کسی نبی کسی مرسل اور کسی بشر کی طاقت نہیں کہ آپ کی تعریف کا حق ادا کر سکے۔حضور علیہ الصلوۃ والسلام کے متعلق اکثر انبیاء پیش گوئی کرتے آئے۔انہوں نے بھی صرف اسی جملہ پر اکتفاء کیا کہ ہمارے بعد ایک نبی آخر الزمان آنے والا ہے۔چنانچہ حضرت عیسی کی یہ پیش گوئی انجیل میں واضح ہے کہ میرے بعد ایک نبی آنے والا ہے۔جن کا نام محمد ہو گا۔میں ان کے جوتے کے تسمے کھولنے کے بھی لائق نہیں۔مرسلین کے بعد حضور علیہ السلام کے اصحاب و تابعین کا شمار ہوتا ہے۔تو ان کا بھی یہی حال رہا کہ حضور علیہ السلام کو اسی قدر پہچان سکے کہ اپنے مال و جان اور اولاد سب کچھ آپ پر قربان کر دیا۔یہ بھی پہچاننے کی ایک ادنیٰ مثال ہے۔باقی امت تو کسی شمار ہی میں نہیں ! بہر حال اولیائے کرام اور صوفیائے عظام کو راہ عرفان میں جو کچھ مشاہدات پیش آتے ہیں وہ حضور کے نور مقدس سے ہی تو سل رکھتے ہیں۔علاوہ ازیں علمائے کرام نے حضور کی جو تعریف کی ہے وہ آپ کے اسوہ حسنہ اور علم الحدیث سے ماخوذ ہے۔ورنہ حضور علیہ السلام کی 1۔=