بیسویں صدی کا علمی شاہکار

by Other Authors

Page 40 of 232

بیسویں صدی کا علمی شاہکار — Page 40

40 امروز گردل از پے قرآن نسوزدت عذرے دگر ترا بجناب یگاں نماند اگر آج کے دن تیرا دل قرآن کے لئے نہیں جلتا تو پھر خدا کی درگار میں تیرا کوئی عذر باقی نہیں رہا۔بگذار درد مثنوی و شغل غزل و شعر ای خود چه چیز هست اگر قدر آن نماند مثنوی کے درد اور شعر و غزل کے مشغلہ کو چھوڑ یہ چیزیں کیا حقیقت رکھتی ہیں اگر قرآن ہی کی قدر نہ رہی۔در خادماں نشینی و صد نازی کنی آن را که سید است کس از خادمان نماند تو نوکروں میں بیٹھ کر سینکڑوں ناز نخرے کرتا ہے مگر جو اصل سردار ہے اس کی خدمت کرنے والا کوئی نہیں۔خلق از برائے شوکت دنیا چها کنند دردا که مهر کعبہ چو مہر بتاں نماند لوگ دنیا کی شان و شوکت کے لئے کیا کیا کرتے ہیں مگر افسوس کہ کعبہ کی محبت بتوں کی محبت کے برابر بھی نہیں رہی۔اے بے خبر بخدمت فرقاں کمر به بند زاں پیشتر که بانگ بر آید فلاں نماند" اے بے خبر فرقاں کی خدمت کے لئے کمر باندھ لے اس سے پہلے کہ یہ آواز آئے کہ فلاں شخص مر گیا۔له سعدی کا مصرعہ (مولف) اے خواجہ پنج روز بود لطف زندگی کس از پئے مدام دریں خاکداں نماند