بیسویں صدی کا علمی شاہکار — Page 31
31 " اخبار آزاد لا ہو ر ۱۹ مئی ۱۹۹۸ ء۔نوائے وقت ۱۸ مئی ۱۹۹۸ء) علامہ نے رسالہ ضیائے حرم (اپریل ۱۹۷۲ء) کے صفحہ ۲۷ پر ہدیہ نعت " کے زیر عنوان درج ذیل فارسی نظم سپر د اشاعت فرمائی۔( 7271 برای خرید جان ودلم فدائے جمال محمد است خاکم نثار کوچه آل محمد است دیدم بعین قلب و شنیدم بگوش ہوش در هر مکان ندائے جمال محمد است این چشمہ رواں کہ مخلق خدا دهم یک قطره زبحر کمال محمد است این آتشم ز آتش مهر محمدی ست ویں آب من ز آب زلال محمد است (ترجمہ) میری جان اور دل محمد کے جمال پر فدا ہیں اور میری خاک آل محمد کے کوچے پر قربان ہے۔میں نے دل کی آنکھوں سے دیکھا اور عقل کے کانوں سے سنا ہر جگہ محمد کے جمال کا شہرہ ہے۔معارف کا یہ دریائے رواں جو میں مخلوق خدا کو دے رہا ہوں یہ محمد کے کمالات کے سمندر میں سے ایک قطرہ ہے۔یہ میری آگ عشق محمد کی آگ کا ایک حصہ ہے اور میرا یہ پانی محمد کے مصفا پانی میں سے لیا گیا ہے۔یہ موجب مسرت ہے کہ رسالہ ”ضیائے حرم" نے یہ نعتیہ کلام نہایت جلی اور نفیس قلم سے شائع کیا مگر یہ بتانے کی زحمت گوارا نہیں فرمائی کہ بارگاہ نبوی میں عقیدت کا یہ حسین و جمیل گلدستہ پیش کرنے کی سعادت کیسے نصیب ہوئی ہے؟ راقم الحروف کی تحقیق کے مطابق یہ نظم پہلی بار ایک سو تیرہ ۱۱۳ برس پیشتر ضمیمہ اخبار "ریاض ہند امر تسر مورخہ یکم مارچ ۱۸۸۶ء کے صفحہ ۱۴۵ میں چھپی اور حضرت بانی سلسلہ احمدیہ کے قلم مبارک سے نکلی۔"ریاض ہند" کے اس یادگار پرچہ کی نقل مطابق اصل آپ کی تالیف "آئینہ کمالات اسلام" (مطبوعہ ۱۸۹۳ء) میں بھی شائع شدہ ہے۔علاوہ ازیں " تاریخ احمدیت جلد نہم صفحه ۴۸۰ پر اس کا فوٹو بھی چھپ چکا ہے۔جو صاحب چاہیں ملاحظہ فرما سکتے ہیں۔