بیسویں صدی کا علمی شاہکار

by Other Authors

Page 187 of 232

بیسویں صدی کا علمی شاہکار — Page 187

187 يا بحر فشل المنعِيمِ المَنَانِ تَهْوى اليك المربا الكيران اسے سنتم ومنان کے فضل کے سمندر لوگ کوزے لئے تیری طرف آرہے ہیں ما شمس ملك الحسن والان نورت وجد البرو العمران تَوَرَتَ وَجه تا , او اسے حسن و احسان کے ملک کے آفتاب تو نے دیوانوں کو آباد کارواش کردیا بال قومراوكَ توم را وَكَ وَامَّةٌ قَد لُخبَر مِنْ ذالك البدر الذى اسبانى قیم نے ولو یہاں ایک قوم نے تھے آنکھ سے دیکھا اور ا ا ا ا ا ا ا ا ا ا ا ا ا ا ا ا ا ا ا ا اپنا دیوانہ بنایات يتكون من ذكر الجمال لصبابة وتا لما مِن توعَة الهجران کے مال کو یاد کرکے تین سے ملے ہیں اور جدائی کی جان سے کچھ اٹھ کر چلاتے ہیں وارى القلوب لدى الجنادرية قلدى الغور تنلها العنان قَارَى العَيْنَانِ اورا نے ناموسی یں دلوں کو غم سے لاکھوں تک پہنچے ہے ا ا ا ا ا ا ا ا ا ا ا ا ا ا اور کیا ہوا میں انوار ہیں ہوا الــ يا من عد إ فى نورة وقاية كانتيرن ونور الملوان اسے وہ جو اپنے نور اور روشنی میں افتاب جہان کی ماند ہے جس رات امین کو اناوی يَا بَددُنَا يَا آيَةَ الرَّحمن اهد المَدَاةَ فَاسْحَعَ الشجعان اے ہمارے بدرا سے رحمان کے نشان P سے ! إلى أرى في وجهكَ الحَمَلَلِ شَانَا يفوق شمائل الانساني میں تیرے درخشاں تیرے میں ایک ایسی دی کیوں جو انسانی صفات سے بڑھ کر ہے حو وقد اقتضاكَ أولو النعى والعلم وَرَتَوا تَذَكر معهد الأوطان دانشمندوں نے تیری بیٹری کی اور اپنے صاف کی یہ گالف وطنوں کی یا دین ترک کردی۔