بیسویں صدی کا علمی شاہکار — Page 182
182 ماء النبی کو ان سے اي تصب فلا يصاراً یر ستان کے دن میرا - آن امور مایه ان تمام بینه درود و سلام بھیجا جه ماست - علیہ السلوم السلام کی تولیت تو انسان نہ است یا موت حضرت استیک لولین رحمدل ن رحمة للعالمين ! دین (طویق عمل نه های نبی کی مرسی از یک پیشیر دوسری حدیث : - ان اكوم الاولين میں پہچانا جاؤں۔تو نور محمدی پیدا کیا اور اصل اکملت لکه نہیں کہ آپ کی تقیقہ کا اور ان کے الاخرين وبيدي لراء الحمل اس نیز مقدس کے پیدا کرنے سے اسی مقصد عليكمه تفید تلیف اسلام : السلام کے متوقع اکثر ولا فخر وما من نيسا اعلیٰ اور مشل اعلیٰ کی تکمیل منظور تھی جس کی شہایت حضور علیہ الله انه یاد پیشگوئی کرتے اسنے۔انہاں نے بھی مرت أدم نمن سماه الاهو خود حضور علیہ السلام نے وہی۔کہ اسی بلہ پر اکتفاء کیا۔کہ ہمارے بعد ایک نیا تحت اندائی افراد زیان آنے والا ہے۔چنانچہ حضرت عیسی یعنی حضور محمد الرسول الله علی اله علیه وسلم الاخلاق وكمال محاسن کی نہ ہوتی تخیل میں واضح ہے کہ میرے بعد اولین : آخرین میں مکرم ہیں۔اور آپ کے ہاتھ میں کی۔انہی آنے والا ہے۔جون کا نام محبت ہوگا۔محمد کا علم ہوگا۔قیامت کے دن کوئی نبی ایسا جس کا ثبوت خود حضور عا یہ اسلام نے اپنے دم معینی جیسی اولا میں ان کے جوتے کے تسمے کھونے کے بھی نہ ہوگا۔جو حضور کے علم کے نیچے نہ ہو گا۔یہ ذاتی کردار سے پیش کیا کہ اتی ہیں۔إن الله يعني لا تم مکارم عنایات و عطیات ریسے تو قضی الاعمال زندگی کے مطالعہ۔نہیں آتے۔البتہ رفعت و شان دار احمد کے مالک کو عزت ان الفتكم واعليكم يا الله نے کفارہ عرب کے مرسلین کے بعد حضور علیہ السلام کے اصحاب انتہائی حد کے باعث ہوگی۔علا: انہیں اللہ تعالیٰ انا کسری کی عظیم اللہ و تا دین کا شمار ہوتا ہے۔تو ان کا بھی یہی حال کے وہ ایشاذات جو حضور سے نسبت رکھتے ہیں ان اور فکر باالله و الٹ کر رکھ دیا۔رہا۔کہ حضور علیہ السلام کو اسی قدر پہچان سکے ان آیات سے ظاہر ہوتا ہے کہ اللہ تعالے نے اشدكم لة خشية خود حضور علیہ الص کہ اپنے مال و جمال اور اولاد سب کچھ آپ پر حضور علیہ الصلوۃ : استلام کی ذات مقدس کے حضور علیہ السلام نے اکمل ترین طریقہ پر الہ اخلاقی جیل کا منو قربان کر دیا۔یہ بھی پہچاننے کی ایک ادنئے زلی ابدالی محبت کا نمونہ بنایا۔چنانچہ ارشاد کی ذات کو پہچانی کہا اپنے منصب احسانی کی تکمیل مثال ہے۔باقی انت تو کسی شمار ہی میں ہوتا ہے :- کی۔عہداری تواریخ کے حضور قلنية الصالو نہیں بہر حال اولیا ئے کرام اور صوفیائے عمام ان الله : ملكة يصلون محمدت پیش کر آئے کی راہ عرفان میں جو کچھ مشاہدات میں آتے على المشترى يا ايها الذين امنو ہیں وہ حضور کے نور مقدس سے ہی تو سل رکھتے صلو عليه وسلمو تسليما دنیا پر جتنے پیغمبر مبعوث ہوئے سبھی نے ایک ہیا۔جو زمانہ : ہیں۔علاوہ ازیں علمائے کرام نے محسنوں کی جدہ اللہ تعالی بشری کردار سے منزہ ہے۔تسلیم اپنی کا درس دیا۔ہر نبی اپنے ماحول کے مطابق میں اہمیت تا رکھتا تریوں کی بہتے وہا آپ کے اسو ہ حسنہ از علم معبود ہے۔اس کے ذمہ کوئی عبادت نہیں مگر شریعت کے ساتھ امداد اللی معجزات کی صورت قدر جہالت میں : الحدیث سے ماخوذ ہے۔ورنہ حضور علیہ السلام اکمل محبت کا تقاتنا ہی ہے کہ اللہ تعالٰی : میں لے کر آیا۔اور ہرنی کسی مخصوص قوم کے لئے سپاہ گری سی اس کے ملائکہ نے حضور علیہ الصلوۃ والسلام مقرر ہوا۔مگر ہمارے نجی حضرت محمد ر سال اللہ امارت میں انتہ پر : کی تعریف میں ہے کہ ہے اگر خواهی پیر عاشقش باش کہ استند و سلام بھیجنا اپنے ذمہ لیا اور تمام صلی اللہ علیہ سلم كافة للناس رحمة اور خصوصاً کہ محسود است به یان مهشید کائنات : خلقت کے لئے نہیں اعلان کر دیا کہ العلمین بن کر آئے۔جو شرت کسی نبی کو حاصل عمر نمالد بن ولید ہرزی رنج آپ کی ذات مقدس پر تا قیامت نہیں اسی مشرف کی سب سے بڑی خصوصیت موجود تھیں۔تعریف میں زیاب انسان ہیں۔کیونکہ تمام کائنات یہ تھی کہ گزشتہ انبیاء نے معجزات سے جاہروں کو علو مرتبه حضرتة حضور علیہ الصلوۃ : اسامی کی شلی تقدس کی خلقت کے بنانے کا مقصد یہی تھا۔کہ زیر کیا جیسے زائد موسی جیسے علیہم السلام نے اور اے پیر مہتمہارے لولاک لما خلقت الافلاک عجزات انہی سے فرعون - بامان - شداد نمر تم اس حدیث سے ظاہر ہے كنت بنياء كان الامام کیونکہ یہ زیادہ ازلی تھا۔زائیوں کو مسلح کیا ہے کہ مرزائی انے کا ذبانی مرزا کے الہامات اری اشاعت کو خیال کریں۔ایدہ اشاعت این باڑ ہی ہے۔ہمیں ابتدا ہی میں یقین تھا۔کہ انکے پاس نہیں ہے کوئی جواب نہیں ہے اب بھی ہمارا پانچ قارا ہے ال کره ای اندام های ایه از امین مرزا ایسے پانیوں کو مجبور کر دیا گران تمام معجز والے لوگوں میں علمی کہ مرز اغلاق أحمد قادیانی خارج از اسلام شهوت قرآن خود و نیا ہے : الهيد مرع اول الآن شتے میں ہے۔دار تہ ان سے اور پھر کی طرف کہتا ہے تو اس کی متقی اور علم دینیں ہمیں پھر زندہ آئے گئے۔اور دنیا میں وہ اپنی طبعی مرزا قادیانی کے لیے کہ ان میں خدا کے لئے میدت بن بجاتے ہیں۔نفسیاتی طور پر غرض اللہ تعالٰی کی بات اٹھائے گئے۔جبکہ مرزائی حقیقت کو |