بیسویں صدی کا علمی شاہکار — Page 136
136۔خربت خیبر اس کی یہ تعبیر ہے کہ اس محل سے میرا دل مراد ہے جو جائے نزول و حلول انوار ہے اور وہ نور قرآنی معارف ہیں اور خیبر سے مراد تمام خراب مذہب ہیں۔۔۔۔۔۔سو مجھے جتلایا گیا کہ اس مضمون کے خوب پھیلنے کے بعد جھوٹے مذہبوں کا جھوٹ کھل جائے گا اور قرآنی سچائی دن بدن زمین پر پھیلتی جائے گی جب تک کہ اپنا دائرہ پورا کرے۔پھر اس کشفی حالت سے الہام کی طرف منتقل کیا گیا اور مجھے الہام ہوا ان الله معك ان الله يقوم اينما قمت۔یعنی خدا تیرے ساتھ ہے اور خدا وہیں کھڑا ہوتا ہے جہاں تو کھڑا ہو۔یہ حمایت الہی کے لئے ایک استعارہ ہے۔ا اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ قادیانی کو اس مضمون پر کہ قدر فخر اور اعتماد ہے یقیناً قادیانی امت کے بھی یہی تاثرات ہوں گے۔اس مضمون کے تقریباً ۲۰ سال بعد ۱۳۳۵ھ میں تھانوی صاحب نے "المصالح للاحکام النقلیہ" کے نام سے ایک کتاب لکھی۔۔۔۔۔اس کتاب کو پہلی بار ۱۳۶۸ھ میں ادارہ اشرف العلوم دیو بند نے شائع کیا گیا بعد میں اس کو احکام اسلام عقل کی نظر میں " کے نام سے محمد رضی عثمانی نے اپنے دیباچہ کے ساتھ دار الاشاعت کراچی سے ۱۹۷۷ء میں شائع کیا۔میرے پیش نظر اس وقت یہی ایڈیشن ہے۔تھانوی صاحب نے قادیانی کی مذکورہ بالا کتاب سے پیراگراف اور صفحے در صفحے اپنی کتاب میں نقل کر ڈالے لیکن کتاب و مصنف کا حوالہ تک نہ دیا۔شاید تھانوی صاحب کو یہ خطرہ تھا کہ اگر حوالہ دیا تو کہیں پیرو کار اور مرید نہ بھاگ جائیں۔حالانکہ پیرو کار لکیر کے فقیر ہیں جنہوں نے حضور نبی اکرم علی کی شان له مجموعه اشتہارات حضرت مسیح موعود" جلد سوم صفحه ۲۹۳ - ۲۲۴ تا شر الشرکت اسلامیہ لمیٹیڈ ربوہ -