زندہ درخت — Page 346
زنده درخت میں اس بڑھاپے کی حالت میں انہیں کیوں فتنہ میں ڈالوں البتہ کسی 66 ڈاکٹر صاحب سے مشورہ کرلیں۔“ یہ جواب پا کر ہم سب ہنس رہے تھے، میری ہنسی میں خفت تھی جبکہ حکیم صاحب کی ہنسی کا انداز یہ تھا کہ تم کیا سمجھتے تھے، مجھے حضرت صاحب کی فراست اور دوراندیشی کا تم سے زیادہ اندازہ تھا وہ فیصلہ کرتے وقت ہر پہلو پر نظر رکھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، بڑھاپے میں عادت ایک دم ترک نہیں ہوسکتی۔ظاہر ہے اس کے بعد حکیم صاحب کے حقے سے سمجھوتا کرنا پڑا۔محترمہ امۃ اللطیف صاحبہ نے اپنے نانا جان سے سنی ہوئی دو باتیں بتا ئیں۔ایک یہ کہ حضرت اقدس مسیح موعود کے والد صاحب کی ایک سرائے تھی جہاں مسافر ٹھہر تے اور خوب مہمان نوازی سے لطف اُٹھاتے۔نانا جان کو بھی اس سرائے میں ٹھہرنے کا اتفاق ہوتا تھا۔اس میں ایک چکی تھی جس پر جھولا لینے کی میاں محمود ضد کرتے۔نانا جان چکی چلاتے رہتے اور صاحبزادہ صاحب لطف لیتے۔دوسری بات یہ کہ ایک دفعہ ماموں محمد منیر بعمر اندازاً دس گیارہ سال قرآن پاک پڑھ رہے تھے کہ اچانک قرآن پاک بند کر دیا اور کہا کہ کچھ نظر نہیں آرہا اچا نک نظر بند ہوگئی۔ڈاکٹروں حکیموں کے علاج سے فائدہ نہ ہوا۔نانا جان بیٹے کو لے کر حضرت حکیم مولانا نورالدین خلیفتہ اسی الاول کی خدمت میں حاضر ہوئے جس وقت آپ پہنچے آپ چوٹوں کی وجہ سے صاحب فراش تھے۔سر پر چادر اوڑھی ہوئی تھی جو آنکھوں تک آئی ہوئی تھی۔آپ نے چادر ہٹا کر موجود احباب کو دیکھا اور فرمایا احباب کو جانے کی اجازت ہے۔نانا جان نے رخصتی کا سلام عرض کرتے ہوئے عرض کیا بیٹے کی نظر جاتی رہی ہے ہم دعا اور دوا کے لئے حاضر ہوئے تھے۔آپ نے ایک نظر دونوں کی طرف دیکھا۔نانا جان واپس روانہ ہوئے راستے میں ہی منیر نے بتایا کہ مجھے نظر آ رہا ہے۔رفتہ رفتہ نظر بحال ہو گئی۔حضرت خلیفہ اسیح الاوّل اُس وقت علاج تو نہ کر سکتے تھے دعا ضرور کی ہوگی جو مقبول بہ درگاہ الہی ہوئی اور نظر بحال ہو گئی۔346