زندہ درخت

by Other Authors

Page 320 of 368

زندہ درخت — Page 320

زنده درخت کہ کسی طرح حق قبول کرنے کے لئے اُن کے دل کھلیں ایسے انداز اختیار کرتے جو گاؤں والوں کی سمجھ میں آجائیں۔آپ چھت پر چڑھ کر قرآن مجید کی تلاوت کرتے ، پنجابی شعر پڑھتے۔یہ طریق بہت مقبول ہوا۔آپ کا پنجابی کلام احمدیوں میں بھی بے حد مقبول ہوا۔جلسہ ہائے سالانہ قادیان کے موقع پر قیام گاہوں ، بازاروں اور بارونق محفلوں میں کلام سناتے۔صداقت مسیح موعود کے دلائل سیدھے سادے انداز میں دلوں میں اُتر جاتے۔بحرت قادیان اور قادیان والوں کی محبت میں اپنے گاؤں کو خیر باد کہا اور ہجرت کر کے اپنے محبوب کے در پر حقیقتا دھونی رمادی۔آپ کو الہار میں حضرت اماں جان ( اللہ تعالیٰ آپ سے راضی ہو ) کی ڈیوڑھی کی دربانی نصیب ہوئی۔باقی زندگی اسی در کی دربانی میں اور دعوت الی اللہ کے سلسلے میں دوروں میں گزری۔قادیان کے محلہ دارالبرکات میں مکان بنانے کی بھی توفیق ملی جس کا ایک دلچسپ واقعہ ہے۔آپ نے حضرت خلیفہ اسیح الثانی کی خدمت میں مکان کی بنیاد رکھنے کی درخواست کی۔حضرت صاحب نے فرمایا کہ میں بوجہ خرابی صحت وہاں تک شاید نہ جاسکوں آپ ایک اینٹ لے آئیں میں اس پر دعا کر دوں گا۔حسن اتفاق سے جس دن مکان کی بنیا درکھنے کا پروگرام بنا حضرت صاحب کسی اور جگہ تشریف لائے ہوئے تھے موقعہ سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے محترم حکیم صاحب نے وہاں حاضر ہو کر تشریف لانے اور اپنے دست مبارک سے بنیا د ر کھنے کی درخواست کی۔حضرت صاحب نے مسکراتے ہوئے فرمایا کہ میں وہاں اس شرط پر آؤں گا کہ آپ مجھے وہ کہانی سنائیں جو آپ کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے سنائی تھی۔حضرت صاحب مکان کی بنیاد رکھنے کے لئے تشریف لائے وہاں عمارتی سامان اور اینٹیں وغیرہ بکھری پڑی تھیں۔حضرت صاحب ان اینٹوں پر بیٹھ گئے اور حکیم صاحب نے فرمائش کے مطابق کہانی سنائی۔(الفضل/ 11مارچ1998ء) 320