زندہ درخت — Page 300
زنده درخت میں تشریف لائے۔حضرت مولوی صاحب نے حضرت امام احمد بن حنبل کے متعلق ایک نوٹ ہمیں املا کر وایا یہ بات سمجھ میں نہ آسکی کہ اس طرح لکھوانے کا کیا مقصد تھا بعد میں پتہ چلا کہ اس طرح ہماری ہینڈ رائٹنگ دیکھنا مد نظر تھا۔ہمارے لکھے ہوئے کاغذوں کو ایک نظر دیکھنے کے بعد حضرت مولوی صاحب نے پانچ طالب علموں کو جن میں سے ایک یہ خاکسار بھی تھا۔مولنا خورشید احمد صاحب کے ساتھ جانے کا ارشاد فرمایا۔جامعہ سے تحریک جدید کے کوارٹرز کی طرف آتے ہوئے پتہ چلا کہ ہم مسند احمد بن حنبل کی تبویب کا کام شروع کرنے کے لئے جارہے ہیں۔گول بازار سے کچھ سٹیشنری خریدی گئی۔لائبریری سے کتب حاصل کیں۔اساتذہ میں سے مولانا غلام باری سیف صاحب اور مکرم مولا نا محمد احمد ثاقب صاحب کی خدمات بھی اس کام کے لئے حاصل کر لی گئیں۔بعض اور طالب علم اور اساتذہ بھی وقتا فوقتا شامل ہوتے رہے۔ہر بزرگ اُستاد کے ساتھ تین طالب علم ان کی رہنمائی میں تجویز کئے ہوئے عنوان یا باب کے تحت حدیث نقل کرنے کا کام کرتے خاکسار شیخ خورشید احمد شاد صاحب کے ساتھ تھا وہ اپنی صحت کی کمزوری کی وجہ سے بسا اوقات خاکسار کو ابواب تجویز کرنے کا کام بھی دے دیا کرتے تھے۔خدا تعالیٰ کے فضل سے اس زمانہ میں اس کام کی خوب مشق ہوگئی اور خاکسار نقل احادیث کے ساتھ ساتھ اپنی ٹیم کے لئے ابواب کی تعیین کی خدمت بھی سرانجام دیتا رہا یہ کام ہنگامی بنیادوں پر شروع ہوا تھا مختلف ادوار میں مختلف طریقوں سے آگے چلتا رہا تجربہ کے ساتھ ساتھ کام کا طریق بھی بدلتا رہا۔کام کرنے والے بھی بدلتے رہے اسی دوران خاکسار کا تقرر بطور مربی کراچی ہو گیا۔کراچی گئے ابھی چند ہی روز ہوئے تھے کہ مرکز سے بذریعہ تار ( اس زمانہ میں تارہی جلدی رابطے کا بہترین ذریعہ تھا اب ای میل اور فیکس کے سامنے یہ زمانہ قدیم کی بات لگتی ہے ) ربوہ واپس آنے کی ہدایت ملی واپسی پر پتہ چلا کہ حضرت مصلح موعود نے تبویب کے کام کی رپورٹ پیش ہونے پر اس کی پیش رفت کے متعلق عدم اطمینان کا اظہار فرمایا تو کسی بزرگ نے کام کی سستی یا تاخیر کی وجہ یہ بھی بیان کی کہ عبدالباسط جو ایک اچھے کام کرنے 300