زندہ درخت — Page 299
زنده درخت کے رفقاء تھے اس طرح جماعت کے بہترین مبلغ مصنف ، مقرر جیسے حضرت ابوالعطاء صاحب حضرت قاضی محمد نذیر صاحب سے استفادہ کا موقع ملا۔جامعہ احمدیہ اور جامعۃ المبشر بین سے تعلیم مکمل ہونے پر ربوہ میں جن بزرگوں سے کسب فیض کے مواقع حاصل تھے ان میں حضرت حافظ مختار احمد صاحب شاہجہانپوری اور حضرت مولانا غلام رسول صاحب را جیکی جیسے آسمان احمدیت کے روشن ستارے بھی تھے۔یہاں اس امر کا بیان بھی موجب دلچسپی ہو سکتا ہے کہ اس زمانے میں جامعہ احمدیہ کے طلباء دو حصوں میں تقسیم ہو جاتے تھے۔یعنی کچھ طالب علم خدمت کے میدان میں صدر انجمن احمد یہ یا اصلاح و ارشاد کے میدان میں بطور مربی کام کرنے کے لئے مختص ہو جاتے تھے۔اور کچھ انجمن احمدیہ تحریک جدید میں بیرونی ممالک میں تبلیغ و تربیت کی خدمات بجا لانے کے لئے مختص ہوتے تھے۔ہماری کلاس جامعہ احمدیہ احمد نگر میں جاری تھی۔ایک دن ہم نے دیکھا کہ ربوہ سے بعض بزرگ ہماری کلاس میں آئے۔اور انہوں نے ایک ایک طالب علم کی طرف اشارہ کر کے جس طرح کھلاڑیوں کی ٹیمیں چینی جاتی ہیں اس طرح ہمیں دوحصوں میں تقسیم کر دیا بعد میں یہ پتہ چلا کہ یہ تحریک جدید اور انجمن کے نمائندگان تھے اور اپنے اپنے حصے کے طلباء کا انتخاب کر رہے تھے۔ہم طالب علموں کو یہ بات عجیب سی لگی مگر وقف زندگی کی روح کے پیش نظر کسی نے کوئی اعتراض نہ کیا۔کئی سالوں تک جماعت میں ی تقسیم چلتی رہی مگر بعض مشکلات اور قباحتوں کے پیش نظر حضرت خلیفتہ اسیح الثالث نے اس طریق کو ختم کر کے حدیقہ المبلغین یا Pool کا طرز رائج فرمایا جس کے مطابق تمام مربی حسب ضرورت تحریک یا انجمن میں کام کرتے تھے۔اور پہلے سے کوئی تقسیم یا تفریق نہیں کی جاتی تھی۔خاکسار اس تقسیم کے تحت صدر انجمن کا مربی تھا جسے پاکستان میں ہی خدمت کا موقع مل سکتا تھا۔جامعة المبشرین کے آخری سال 1956 کی بات ہے ہماری کلاس ہورہی تھی ہمارے پرنسپل حضرت مولانا ابو العطاء صاحب اور مکرم شیخ خورشید احمد صاحب اُستاد حدیث کلاس 299