زندہ درخت — Page 26
زنده درخت مالی باغبان نے کپڑا بچھا دیا اور حضور مع خدام سب بیٹھ گئے۔تھوڑی دیر کے بعد مالی دوتین ٹوکریوں میں بیدا نہ ڈال کر لایا اور ایک حضور کے آگے رکھ دی اور دیگر دوستوں کے آگے بھی ایک دوٹو کریاں رکھ دیں چنانچہ سب دوست کھانے لگے۔جو ٹوکری حضور کے آگے رکھی تھی اس پر میں اور ایک دو دوست اور بھی تھے۔میں حضور کے بالکل قریب دائیں جانب بیٹھا تھا اور کچھ حجاب کے سبب سے خاموش رہا اور اس میں سے نہ کھا تا تھا۔حضور نے جب یہ دیکھا کہ میں نہیں کھا رہا تو مجھے مخاطب ہو کر فرمانے لگے فضل محمد تم کھاتے کیوں نہیں۔اُس وقت مجھے اور تو کوئی بات نہ سوجھی جھٹ منہ سے نکلا کہ حضور یہ گرم ہیں اس واسطے میری طبیعت کے موافق نہیں۔جس پر حضور نے فرمایا نہیں میاں یہ گرم نہیں ہیں یہ تو قبض کشا ہیں۔جب میں نے دیکھا کہ حضور میری طرف متوجہ ہیں تو میں نے موقعہ پا کر عرض کی کہ حضور میری بائیں ران پر ایک گلٹی ہے اور وہ بہت مدت سے ہے مجھے ڈر ہے کہ یہ کسی وقت تکلیف نہ دے۔اُس وقت حضور کی زبان مبارک سے نکلا تکلیف نہیں دے گی آرام آ جائے گا اس پر ایک دوائی کا نام لیا جو مجھے یاد نہ رہا۔اس کے کچھ دن بعد اُس گلٹی میں درد ہونی شروع ہوئی۔مجھے خیال آیا کہ حضور نے جو دوائی بتلائی تھی اس کا نام میں بھول گیا ہوں۔حیران تھا کہ کیا کروں اتنے میں دو تین دن کے بعد وہ گلٹی اوپر سے کھل گئی اور پھٹ کر باہر نکل آئی اور دو تین دن کے بعد زخم صاف ہو گیا۔یہ بھی ایک معجزہ ہے ایک دفعہ حضور نے فرمایا کہ میں نے دیکھا ہے کہ کچھ لوگ سیاہ رنگ کے پودے لگا رہے ہیں میں نے اُن سے پوچھا کہ یہ کیسے پودے ہیں تو انہوں نے جواب دیا کہ یہ طاعون کے پودے ہیں تو پھر میں نے پوچھا کہ کب؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ جاڑے کے موسم میں۔تب حضور نے جماعت کو بلا کر ایک بڑ کے نیچے جس جگہ قادیان کے مشرق کی جانب ایک نئی آبادی ہے کھڑے ہو کر فرمایا کہ میں نے رویا دیکھا ہے۔اب دنیا میں طاعون کا عذاب آنے والا ہے۔بہت بہت تو بہ کر وصدقہ کرو اور اپنی اصلاح کرو۔الغرض ہر طرح کی نصیحت فرمائی۔26