زندہ درخت — Page 244
زنده درخت چل سکتا ہوں آج چھڑی لے کر باہر چلا گیا دیکھ بھال اُمید سے بڑھ کر ہو رہی ہے۔( یہ خط حیدر آبادسندھ سے تحریر فرمایا۔جہاں ابا جان محترم علاج کی غرض سے قادیان سے عارضی طور پر تشریف لائے ہوئے تھے۔) xii- پودوں اور پھولوں سے محبت : خاکسار کے نام ایک مکتوب میں تحریر فرماتے ہیں :- 22-4-1974 آپ نے اپنے گھر کے پودوں کا ذکر کیا ہے میرے گملے میں بھی موتیے کو ڈوڈیاں لگی ہوئی ہیں۔پچھلے سال پودینہ بہت لگا تھا محلے والے حتی کہ بی بی قدوس صاحبہ بھی منگوالیتی تھیں۔ایک گملے میں رات کی رانی لگائی ہے جو ساڑھے چارفٹ اونچی ہوگئی ہے۔پتے پتے کے ساتھ پھولوں کے گچھے ہیں۔مجھے اس کی خوشبو سے بہت محبت ہے۔پھول دیکھ کر تفکر، دعا،شکریہ محو صنعت صانع پرنم آنکھوں سے رہتا ہوں اس کی خوشبو مچھر دانی میں خاطر داری کرتی ہے۔جب بھی ہوش حاشیہ پر آئی معطر ہو جاتی ہے۔میں نے فروری 1971ء میں شہتوت کی ایک قلم لگائی تھی جس پر آج تک بڑے دکھ، الم ، نشیب و فراز گزرے مگر جب خدائی فیصلہ ہوا کہ درویش کی یادگار دار امسیح میں لگ جائے تو پھر اس نے گویا کھا د پانی مانگنا شروع کیا۔مہنگی لاڈلی بیٹی کی طرح اس کی پرورش کی۔ماں باپ کا پیار د یا۔دوسال بعد 1973 ء میں پانچ سات بور لگے جو جھڑ گئے مگر اپریل میں اس کے پتوں میں چھپا ہوا ایک موٹا تازہ شہتوت میٹھے کالے پانی سے لبالب ایک پڑوسی کو نظر آیا۔بے حد خوشی ہوئی۔یہ شہتوت اُسی کو تحفہ دے دیا۔پھر 1974ء فروری مارچ میں خوب شگوفے آئے 244