زندہ درخت — Page 119
زنده درخت میل کا فاصلہ تھا۔رات ہوئی تو تھک اس قدر گئے تھے کہ واپس آنا محال تھا۔غیر مسلم آبادی زیادہ تھی۔نہ کسی نے رہنے کو جگہ دی نہ کھانا پکانے کو برتن ملے۔ایک مسلمان کا گھر ملا اُس نے بھی سختی سے بات کی اور شہر سے دور ایک امام باڑے کا پتہ بتایا جہاں کوئی انتظام نہ تھا گندا فرش تھا۔کیڑے مکوڑے خصوصاً بچھو بہت زیادہ تھے۔ہم واپس شہر آگئے تو خدا کی شان ایک لڑکا کنوئیں پر کھڑ املا۔ہم نے کہا بھائی کوئی برتن دو ہم کھانا پکا کر کھا لیں۔اُس نے پوچھا کہاں سے آئے ہو۔ہم نے بتا یا قادیان سے اُس کی قادیان میں دور کی رشتہ داری تھی ہم نے سب کے نام بتائے تو وہ خوش ہوا اور ایک برتن لا کر دیا۔ہم سرائے میں ٹھہرے نمکین چاول پکائے خود کھائے اور وہاں کچھ پٹھان قیچی چھری تیز کرنے والے بیٹھے تھے انہیں کھلائے۔سرائے میں دو ہی چار پائیاں تھیں اُن پر چادریں بچھا کر قبضہ کیا۔پٹھان نیچے سوئے انہیں بچھو کاٹ گیا۔ہم نے دم کیا جس سے اچھا اثر ہوا وہ ہم سے گھل مل گئے ساری نمازیں باجماعت پڑھیں صبح وہاں ایک اہلحدیث مولوی آ گیا جو اُس شہر میں آٹا پینے کی مشین کا کام کرتا تھا۔اُس سے دلچسپ بحث ہوئی۔اُس نے ڈینگ ماری کہ ہمارے دس سال کے بچے کے سامنے احمدی کی چیں بول جاتی ہے ہم نے اُسے للکارا کہ تم تو چالیس سال کے ہو آؤ ہم سے مباحثہ کر لو ہمارے دلائل کے آگے ٹھیک سے جواب نہ دے سکنے پر سرائے کے مالک اور دوسروں نے اُسے خوب شرمندہ کیا۔ہم نے دعوت الی اللہ کا موقع ملنے پر اللہ تعالیٰ کا بہت شکر کیا۔۷۔گھر میں کاکنواں کھودا: مکیریاں کے قیام کی ایک اور بات یاد آ گئی۔مخالفت زوروں پر تھی مگر ہم ڈٹے ہوئے تھے۔آخر مخالفوں نے ایک تدبیر سوچی کہ ان کا پانی بند کر دیا جائے خود ہی بھاگ جائیں گے تکلیف ہوئی تو اللہ تعالیٰ کی مدد بھی ہوئی۔ایک ہندو دوست نے اپنے گھر سے پانی لینے کی اجازت دے دی۔ہم مٹی کی منکی لے کر جاتے اور ضرورت کا پانی بھر لاتے۔اُن کو ہمارا 119