زندہ درخت — Page 112
زنده درخت ایک دفعہ میں ربوہ گیا۔حضرت صاحبزادہ صاحب سے ملنے کے لئے گیا۔آپ خدمت درویشاں کے ناظر تھے مگر باپ سے بڑھ کر شفیق حقیقی محبت کرنے والے تھے۔مجھے پاس بٹھا کر درویشوں کے حالات پوچھے۔پھر پوچھا کہ آج کل کس قدر درویش ربوہ آئے ہوئے ہیں۔میں نے نام بہ نام بتایا آپ نے فرمایا میں نے کوشش کی تھی کہ درویش اپنے رشتہ داروں سے مل لیا کریں مگر اُن کو تو بھڑ کی ہی لگ گئی ہے، کثرت سے یہاں رہنے لگ گئے ہیں۔“ 66 iii- حضرت صاحبزادہ مرزاشریف احمد کے ہاں ذکر خیر : خاکسار کے بورڈ کی تحریر کا ذکر حضرت مرزا شریف احمد صاحب کے گھر میں بھی ہوتا تھا۔یہ بات سید فضل شاہ صاحب (سکنہ نواں پنڈ ) نے بتائی۔آپ حضرت مرزا شریف احمد صاحب کے خاص خدمت گزار تھے۔کھانا بہت مہارت سے پکاتے تھے۔بہت پر خلوص، دیانتدار اور نرم طبیعت کے مالک تھے۔آپ نے ایک دفعہ مجھے بتایا کہ بھائی ایک عجیب بات ہے جب بھی کسی دعوت پر احباب اکٹھے ہوتے ہیں میاں صاحب یہ بات ضرور دہراتے ہیں کہ ہمارے میاں عبدالرحیم صاحب کو خدا نے عجیب ملکہ بخشا ہے۔جب بھی کوئی چیز بناتے ہیں اُس کی اس انداز میں تعریف بورڈ پر تحریر کرتے ہیں کہ لطف آ جاتا ہے، ہر بار نئے سے نیا فقرہ دلکش الفاظ ہوتے ہیں۔یاد آنے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ کھانے پر کوئی نہ کوئی چیز آپ کی بھجوائی ہوئی ضرور ہوتی ہے۔آئس کریم تو قریباً روزانہ ایک سیر بچوں کے لئے منگوائی جاتی ہے۔سید فضل شاہ صاحب کی ایک اور بات یاد آئی۔ایک دفعہ حضرت نواب محمد علی صاحب کو اپنے باغ کے آم کو ٹلے بھجوانے تھے میں پندرہ سولہ سال کا تھا۔میری والدہ صاحبہ سے آپ نے فرمایا میاں عبدالرحیم کو بھجوا دیں۔گھوڑے پر بٹالہ جا کر آم پلٹی کر آئے۔فضل شاہ صاحب کو ساتھ بھیجا۔ہم راتوں رات بٹالہ گئے۔علی اصبح بلٹی کر کے واپس قادیان دس بجے 112