زندہ درخت — Page 44
زنده درخت آپ مشورہ دیں کہ میں والد صاحب کا جنازہ وہاں لے جاؤں یا صرف اطلاع دے آؤں آپ نے فرمایا جنازہ کہاں پہاڑوں میں لئے پھرو گے میں چٹھی لکھ دیتا ہوں آپ اطلاع دے آئیں۔میں آپ کا خط لے کر اپنے داماد عزیزم خورشید احمد صاحب کے ساتھ جا بہ گیا آپ نے تحریر فرمایا تھا:۔بسم الله الرحمن الرحیم نحمدہ و نصلی علی رسوله الكريم سیدنا و على عبده المسيح الموعود السلام علیکم ورحمۃ اللہ امید ہے حضور بخیریت ہوں گے آج تقریباً پونے دو بجے میاں فضل محمد صاحب ہر سیاں فوت ہو گئے۔اِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُوْن مرحوم بہت پرانے صحابی تھے اور بہت مخلص بھی ان کی وصیت کا نمبر 102 تھا۔گویا وصیت میں بھی بہت پرانے تھے۔ان کے تین لڑکے سلسلہ کی خدمت میں ہیں۔ایک مولوی عبد الغفور صاحب دوسرے صالح محمد صاحب جو مغربی افریقہ میں ہیں۔اور تیسرے میاں عبدالرحیم صاحب جو قادیان میں درویش ہیں۔مرحوم کی اولاد کی دلی خواہش ہے کہ اگر حضور نے کل تشریف لے آنا ہو تو حضور ان کا جنازہ پڑھا کر ممنون فرماویں۔لہذا اگر واپسی کا پروگرام طے نہ ہو تو اس سے مطلع فرمایا جائے ان کی حالت ایسی ہے کہ غالباً کل سہ پہر یا عصر تک ان کا جنازہ رکھا جا سکتا ہے ہاں یاد آیا مرحوم کے ایک بچہ کا داماد خورشید احمد بھی الفضل میں کام کرتے ہیں اور سلسلہ کے مخلص کارکن ہیں۔فقط والسلام خاکسار مرزا بشیر احمد از ربوه بوقت شام بتاریخ 1956-11-7 44