زندہ درخت — Page 362
زنده درخت ہماری نانی اماں میری امی جان بتاتی تھیں کے ان کو اپنی والدہ کے قبول احمدیت کا علم نہیں جب ان کی وفات ہوئی وہ بہت چھوٹی تھیں بڑی بہنوں کی شادی ہو گئی تھی وہ روٹی نہیں پکا سکتی تھیں آٹے کے گولے سے بنا کر آگ میں ڈال دیتیں جو باپ بیٹی راکھ اور جلا ہوا حصہ جھاڑ کر کھا لیتے تھے۔گاؤں والوں کی مخالفت کی وجہ سے سکول نہیں جاسکتے تھے۔ایک دفعہ انہوں نے اللہ تعالیٰ سے رو رو کر دعا کی کہ میرے والد صاحب کا انجام تو بخیر ہو گیا مولا کریم تو بتا دے کہ میری والدہ کس حال میں ہیں۔دعا کے بعد خواب میں دیکھا کہ والد صاحب تشریف لا رہے ہیں والدہ صاحبہ کا ہاتھ پکڑا ہوا ہے دونوں بہت اچھی حالت میں ہیں۔مجھے دیکھ کر فرمایا۔بیٹا فکر نہ کرو تمہاری امی میرے ساتھ ہیں۔اللہ کرے ایسا ہی ہو۔اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمارے بزرگوں کو غریق رحمت فرمائے اعلی علیین میں جگہ عطا فرمائے۔ہمیں نسلاً بعد نسل اُن کی دعاؤں کا وارث بناۓ۔آمین اللهم آمین۔و آخر دعوانا عن الحمد لله رب العلمین۔آمین 362