زندہ درخت

by Other Authors

Page 298 of 368

زندہ درخت — Page 298

زنده درخت بعض طالب علم جو جیب خرچ کے معاملہ میں قدرے بہتر حالت میں تھے وہ ایک روپے کا آٹھ چھٹانک (قریباً 500 گرام) تازہ مکھن حاصل کر سکتے تھے۔ایک سال تو گندم اتنی ستی ہوگئی کہ سات روپے میں ایک من ( قریباً 35 کلو) مل جاتی تھی۔کئی سال کے بعد جامعہ احمد نگر سے ربو منتقل ہوا مگر ربوہ سے جو تصور اب ذہن میں اُبھرتا ہے۔اس وقت کار بوہ اس سے بہت مختلف تھا۔گرمیوں میں شدید گرمی اور کو کے ساتھ ساتھ قریباً ہر روز ہی شدید آندھی آجاتی تھی اس آندھی سے گردو غبار کمروں میں ہی نہیں صندوقوں اور الماریوں میں بھی چلا جاتا اور صفائی کا مسئلہ منتقل توجہ طلب رہتا۔پینے کا پانی بھی بہت کم ملتا تھا اور وہ بھی دور سے لانا پڑتا تھا۔یہ تو عام مسائل تھے جن کا ذکر ہمارے لٹریچر میں آچکا ہے۔جامعہ احمدیہ کا اپنا ماحول اور مخصوص مسائل تھے مثلاً جامعہ کی عمارت ایک لنگر خانہ کی عمارت تھی جو جلسہ سالانہ کے مہمانوں کے کھانا پکانے اور تقسیم کرنے کی جگہ تھی ظاہر ہے کہ پر عارضی اور کچی عمارت تھی محن میں ہر طرف روٹی پکانے کے تنور تھے بارش میں قریبا ہر چھت شیکتی اور ہر تئور پانی سے بھر جاتا تھا۔ایسے میں کیچڑ اور پانی سے کپڑوں اور کتابوں کو محفوظ کرنے کے لئے بعض اوقات ان ٹینکیوں سے مدد لی جاتی تھی۔جو جلسہ کے دنوں میں پانی ذخیرہ کرنے کے کام آتی تھیں اور باقی دنوں میں بیکار پڑی رہتی تھیں۔ان حالات اور مشکلات کے بیان کے ساتھ یہ وضاحت بھی ضروری معلوم ہوتی ہے۔کہ خدا تعالیٰ کے فضل سے حضرت مصلح موعود تعلیم کی ترقی اور واقفین کی بہتری کے لئے ہدایات جاری فرماتے رہتے تھے ہمیں بہترین اساتذہ سے صرف علم ہی نہیں تقویٰ ، خدا ترسی اور لگن سے کام کرنے کی تربیت بھی حاصل ہوتی تھی۔خدمت دین کا جذبہ پیدا کرنے کے لئے اس سے بہتر ماحول کم ہی کسی کو میسر ہو گا۔حضرت مصلح موعود کا کامیاب سنہری دور اس طرح دیکھنے کا موقع ملا کہ ہر روز ہی نئی کامیابیوں اور فتوحات کے نظارے ہوتے تھے۔تحریک جدید اور خدام الاحمدیہ کے آغاز کا بھر پور زمانہ دیکھنے کی سعادت حاصل ہوئی۔اساتذہ کرام کا مس۔تفصیلی ذکر تو ممکن نہیں تاہم یہ امر کتنا خوشکن اور قابل تشکر ہے کہ ہمارے بعض اساتذہ حضرت مسیح موعود 298