زندہ درخت

by Other Authors

Page 262 of 368

زندہ درخت — Page 262

زنده درخت -33- میرا بچپن جہاں گزرا۔۔۔تحریر محترم امتة الشكورات متة الشكور ارشد صا تقسیم برصغیر کے وقت خاکسار صرف تین سال کی تھی محترمہ آپا لطیف صاحبہ کا2 نومبر 1947 کا لکھا ہوا ایک خط تاریخ احمدیت جلد گیارہ صفحہ 142 پر محفوظ ہے لکھتی ہیں :- ” جب کنوائے قادیان سے آتے ہیں تو نہایت مضطر بانہ حالت ہو جاتی ہے جب تک ہم کو قادیان نہ ملے ہمارے لئے دنیا اندھیر ہے باوجود فراخ ہونے کے تنگ ہے۔جلد اللہ تعالیٰ کسی قربانی کو نواز دے اور ہماری مشکلات حل ہوں امتہ الشکور کو یہ گھر اپنا معلوم نہیں ہوتا ہر وقت روتی رہتی ہے۔آپ کو اتنا یاد نہیں کرتی جتنا قادیان کو۔“ امی جان بتاتی تھیں کہ جب بارڈر پر ملاقات ہوئی تو تم ابا جان سے کہتی تھیں کہ مجھے اپنے ساتھ لے جائیں میں تنگ نہیں کروں گی آپ کا ہر کہنا مانوں گی۔اب خیال آتا ہے کہ پیارے ابا جان میری اس طرح کی باتوں سے کس قدر تڑپے ہوں گے۔ہم احاطہ مستورات میں رہتے تھے دروازہ کھٹکتا تو میں اور میرا منا بھائی سلام بھاگ کر جاتے۔ایک دن بھائی نے پوچھا سب کے ابا جان آتے ہیں ہمارے کیوں نہیں آتے تو میں نے سمجھایا کہ ہمارے اباجان درویش ہیں۔درویش کسے کہتے ہیں۔ننھے بھائی نے پوچھا اس وقت تک جو میں سمجھ سکی تھی اُس کے مطابق اس کو جواب دیا درویش اپنے بچوں کو پاکستان بھیج دیتے ہیں خود قادیان کی حفاظت کرتے ہیں۔مجھے ابا جان کا پہلی دفعہ پاکستان آکر ہمیں مانا بھی یاد ہے۔لگتا تھا کہ ساری دعائیں قبول ہوگئیں اللہ تعالیٰ سے کچھ اور مانگنے کو باقی نہیں بچا پھر ابا جان کبھی کبھی ربوہ آنے لگے یہ دن 262