زندہ درخت

by Other Authors

Page 118 of 368

زندہ درخت — Page 118

زنده درخت iii۔بظاہر حقیر چیز حمد و شکر کا سامان بن گئی: ایک اور تبلیغی ٹرپ کا دلچسپ واقعہ یوں ہے کہ علاقہ مکیریاں کے قول پور چھنیاں میں ایک ماہ کے لئے وقف کیا۔ایک احمدی بھائی نے ایک کمرہ ہمیں دے دیا۔ہم دن بھر پھرتے پھراتے رہتے ، دعوت الی اللہ کرتے ، رات کو کھانا پکا لیتے۔آرام کرتے اور پھر صبح وہی معمول رہتا۔ایک دفعہ ایسا اتفاق ہوا کہ دور نکل گئے واپسی میں دیر ہوگئی اور بارش بھی ہوگئی کھانا پکانے کے لئے جو لکڑی اور اُپلے ( پاتھیاں ) تھے وہ بھی کوئی اُٹھا کر لے گیا۔پانی بھرنے گئے تو گاؤں کے واحد کنوئیں سے سب پانی بھرنے کے بعد تج ( رسی معہ ڈول ) اُتار کر لے جاچکے تھے ہم اپنا سا منہ لے کر واپس آگئے۔آخر ایک لوٹا پانی جو کمرے میں تھا اُس سے دال چاول دھو کر اور ایک اپلہ جو باقی رہا تھا جلا کر کھچڑی چڑھا دی اور دل میں دعا کی کہ بغیر مادے کے سب کچھ پیدا کرنے والے میرے رب ! ہماری مدد کو آ۔ابھی اپنے رب سے بات کر ہی رہا تھا کہ دروازے پر ماشکی (سقہ ) آیا۔گاؤں والوں کو برا بھلا کہا اور کہا کہ جب تک آپ ادھر ہیں میں خود پانی پہنچاؤں گا۔لطف کی بات یہ تھی کہ یہی ماشکی پہلے ہمیں پانی دینے سے انکار کر چکا تھا۔اب سنیئے آگ کی ضرورت رب کریم نے کیسے پوری کی۔ایک بچی ایک ڈھکنے پر بڑا سا اُپلا رکھ کر لائی اور کہا میری ماں کہتی ہے تھوڑی سی آگ دے دیں۔میں حیران ہوا کہ یہ تو پہلا مادہ ہی مانگنے آ گئی۔اتنے میں اُس کے باپ نے دور سے آواز دی۔مولوی صاحب اس کو آگ نہ دینا۔دیا سلائی دے دینا ورنہ راستے میں کپڑے جلالے گی۔اپلا بھی وہیں رکھ لیں۔میں نے سجدہ شکر ادا کیا ، اپلا چولہے میں رکھا۔تھوڑی دیر میں کھچڑی تیار ہو گئی۔اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہوئے کھائی۔کبھی بظاہر حقیر چیز بھی حقیقی حمد وشکر کا سامان بن جاتی ہے۔iv۔ہمارے دلائل کا سامنا نہ کر سکا : اسی دورے میں ایک دن دا تا پور پہاڑ پر دعوت الی اللہ کے لئے نکل گئے۔تقریباً دس 118