زندہ درخت — Page 117
رہا مگر ہمارا رعب قائم رہا۔زنده درخت ii اینٹ پتھر کھانے کی سعادت: اسی طرح کا ایک ٹرپ ویرووال کے قریب سکنہ نو گاؤں میں ہوا۔اس میں بھی تین آدمی تھے ایک مرزا عبداللطیف صاحب دوسرے علم الدین سائیکل والے اور تیسرا خاکسار۔گاؤں میں ہر طرف دعوت الی اللہ کی ظہر کا وقت ہوا تو بیت کی طرف چلے کہ کچھ لوگ وہاں مل جائیں گے۔بات چیت کا موقع ملے گا۔وہاں پہنچ کر وضو کر نے لگے۔ابھی آدھا وضو ہی کیا تھا کہ اُنہوں نے شدید گالی گلوچ اور زدوکوب شروع کیا حتی کہ مسجد سے نکال دیا اور بچوں کو پیچھے لگا دیا کہ اینٹ پتھر مارتے جائیں اور گاؤں سے باہر نکال کر آئیں۔ہم بہت خوش تھے کہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں مار کھانے کی سعادت ملی۔اب اللہ تعالیٰ کی مدد دیکھئے۔راستے میں ویرووال کے احمدی دوست مہر اللہ دتہ صاحب ملے۔اکھٹے چلتے ہوئے انہوں نے کہا کہ تھانیدار نے بلایا تھا ذرا پوچھتے جاتے ہیں کیا کام ہے۔جب ہم وہاں پہنچے تو تھانیدار صاحب ،جو ہندو تھے ، پوچھنے لگے بھائیو! کہاں سے آئے ہو کس کام سے آئے ہو۔ہم نے بتایا کہ قادیان سے آئے ہیں تبلیغ کرتے ہیں ( وہاں ایک مشہور معاند مولوی عبداللہ صاحب بھی بیٹھے تھے )۔تھانے دار صاحب نے پوچھا: کیا تبلیغ کرتے ہو؟ ہم نے بتایا کہ حضرت عیسی علیہ السلام فوت ہو چکے ہیں اور جس مسیح کو اس زمانے میں آنا تھا وہ آچکے ہیں اور وہ حضرت مرزا غلام احمد قادیانی ہیں۔تھانیدار نے مولوی عبداللہ صاحب کی طرف دیکھ کر پوچھا مولوی صاحب یہ کیا کہہ رہے ہیں۔مولوی صاحب کو تو جیسے سانپ سونگھ گیا۔کوئی جواب ہی نہ بن پڑا۔ہمیں خوب موقع ملا اور تفصیل سے اپنے عقائد بتائے۔مولوی صاحب خاموش رہے اور تھانیدار صاحب ہنستے رہے۔117