زندہ درخت

by Other Authors

Page 69 of 368

زندہ درخت — Page 69

زنده درخت سے پیش آتے۔ہماری صوباں ، ہماری گورنر کہہ کر بلاتے۔ایک دن اماں حضور کے گھر گئیں تو پتہ چلا کہ حضرت امی جان ام ناصر صاحبہ نے ایک تیرہ چودہ سال کے لڑکے کوکسی کام سے بازار بھیجا تھا اس نے واپس آکر بتایا کہ کسی نے ایک پڑیا دی کہ حضور کے آگے کھانا پیش ہو تو کسی طرح اُس میں ڈال دینا۔جب ڈال دو گے تو بہت روپے دیں گے۔اماں واپس گھر گئیں تو ابا جان کو یہ بات بتائی۔آپ کو بے حد فکر ہوا اور کہا کہ صوباں اب تم جا کر حضرت صاحب کا کھانا پکایا کرو۔اور خاص حفاظت سے پیش کیا کرو۔اماں نے جا کر حضور کی خدمت میں عرض کیا کہ اس طرح میاں صاحب نے کہا ہے۔آپ نے فرمایا: صوباں میری تو ہر روز کھانے کی باری ہوتی ہے تم کدھر کدھر جا کر پکاؤ گی۔میرا معاملہ اللہ تعالیٰ پر چھوڑ دو وہ خود میری حفاظت فرماتا ہے۔“ ایک دفعہ میرے بھائی صالح محمد صاحب نے اماں کو ایک خط دیا کہ حضور کی خدمت میں پیش کریں۔ان دنوں حضرت چھوٹی آپا مریم صدیقہ کی نئی نئی شادی ہوئی تھی حضور کی باری اُن کی طرف تھی۔اماں گئیں تو حضرت چھوٹی آپا نے بتایا کہ حضور کی آنکھ لگ گئی ہے اماں نے خط حضرت چھوٹی آپا کو دے دیا اتنے میں حضور کی آنکھ کھل گئی پوچھا مریم کون ہے؟ چھوٹی آپا نے بتایا کہ ایک عورت آئی ہے خط دے گئی ہے۔آپ نے فرمایا اُس کو ملا لو۔جب اماں پر نظر پڑی تو حضرت چھوٹی آپا کو سمجھانے کے لئے فرما یا۔دیکھو یہ کوئی عورت نہیں ہے یہ تو صوباں ہے۔تین دفعہ اسی طرح فرمایا۔اور سمجھانے کے انداز میں فرمایا یہ صوباں تو ہماری گورنر ہے اسے کوئی عورت نہیں کہنا۔دار الفضل میں ہمارے گھر سے آگے حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب کا باغ تھا۔حضرت اماں جان اپنے خاندان مبارکہ کی بہو بیٹیوں کے ساتھ باغ میں آتیں تو ذرا دیر کو ہمارے گھر بھی تشریف لاتیں۔فرماتیں میں تو صرف یہ دیکھنے آئی ہوں۔صوباں کیسی ہے اور کیا کر رہی ہے۔اماں کو قرآن شریف سے بہت پیار تھا۔پڑھ نہ سکتی تھیں۔کسی سے لفظ لفظ سبق لے کر 69