زندہ درخت — Page 326
زنده درخت سے امراء، غرباء سب کا نقصان ہو گا۔چنانچہ فلاں ملک کا بادشاہ اپنی لڑکی کو علاج کے لئے اس کے پاس لا رہا ہے۔اگر اسے یہاں مار ڈالا تو خدا کا عرش کانپ اُٹھے گا۔دوسرے جنوں نے سوال کیا کہ اسے کیا بیماری ہے۔وہ جن بولا اُسے فلاں بیماری ہے۔علاج پوچھا تو کہا کہ اس کے گھر میں سفید بلّی رہتی ہے۔اُس کی پیٹھ سے چند بال اُکھاڑ کر آگ پر رکھ کر اس لڑکی کے قریب کرے وہ جن چیختا ہوا بھاگ جائے گا۔اور پھر کبھی پاس نہ آئے گا۔چنانچہ انہوں نے اس بزرگ کو چھوڑ دیا اور صحیح سلامت او پر پہنچادیا۔گھر میں پہنچا ہی تھا کہ بادشاہ اپنی بیمارلڑکی کو لے کر آن پہنچا۔اس نے علاج کیا۔لڑ کی تندرست ہو گئی۔اور خوب توانا ہو گئی۔بادشاہ نے نکاح کی فکر کی بہت سوچا مگر اس صالح مرد سے بڑھ کر نکاح کے قابل اور کسی کو نہ پایا۔چنانچہ اس کے ساتھ نکاح کر دیا۔چند دن بعد خود مر گیا اور تاج و تخت اس بزرگ کو سونپ گیا۔حضرت صاحب نے یہ حکایت سنا کر فرمایا۔میاں اللہ بخش خدا تعالیٰ ہمیں اقبال عطا کرے گا اور حاسد کا قدم دن بہ دن زوال کی طرف جائے گا۔حاسد پھونکوں سے اسے بجھانا چاہیں گے۔مگر میرا خدا مجھے اور زیادہ ترقی دے گا۔ایک روز فرمایا کہ بعض بد خصلت انسان اگر کسی کا نقصان کرنا چاہتے ہیں مگر نہ کر سکیں تو اپنا احسان جتاتے ہیں۔ایک فیض رساں انسان کا ذکر ہے کہ اُس نے ایک نادان امیر کی خیانت کی۔یہ معلوم کر کے کہ یہ امیر بڑا عیب جو اور نکتہ چین ہے اگر اُس کی طرف کھانا کھلانے والوں میں سے کسی کی پیٹھ ہوگئی تو ناراض ہو جائے گا۔اس لئے تمام ضروری سامان پہلے ہی قرینے سے سجاد یا اور عرض کی کہ حضور کھانا تیار ہے تشریف لائیے اور تناول فرمائیے۔خیر کھانا کھا کر جب باہر آئے اور میز بان کے دروازے میں کھڑے ہوکر اس کا شکریہ ادا کیا تو بجائے اس کے کہ ان کو عزت اور تکریم سے پیش آتا۔کہنے لگا کہ میرا تم پر بڑا احسان ہے۔کیونکہ جس مکان میں کھانا ہم نے کھایا ہے۔اُس میں ہزاروں روپے کا (10) 326