زندہ درخت

by Other Authors

Page 297 of 368

زندہ درخت — Page 297

زنده درخت مجبوری سے دوبارہ تعلیم کا سلسلہ شروع نہ کر سکنے والوں کے حالات جمع ہوسکیں تو یقینا اس میں بھی قربانیوں کے ایمان افروز واقعات ملیں گے )۔لاہور میں رتن باغ اور جو دھامل بلڈنگ ( میوہسپتال کے نزدیک ) حضور کی رہائش اور صدرانجمن کے دفاتر کے قیام سے ایک مرکز کی صورت بن گئی مگر بہت ہی کسمپرسی کی صورت تھی دفاتر کی عمارات ، فرنیچر ، کارکن کوئی چیز بھی تو عام حالات کے مطابق معیاری اور مکمل نہ تھی۔حضرت مصلح موعود کا عزم اور کارکنوں کا اخلاص کام کو چلانے اور آگے بڑھانے کا باعث بنا۔حضور کے ارشاد کے مطابق ایک مترو کہ عمارت میں جامعہ احمدیہ شروع کیا گیا۔حضرت مولانا ابوالعطاء صاحب ابھی قادیان میں تھے۔مکرم حافظ مبارک احمد صاحب مرحوم نے کام شروع کیا۔مختلف کلاسوں کے طالب علم ایک ہی دستیاب چٹائی پر بیٹھے ہوئے محترم حافظ صاحب کے تجربات اور علمی نکات سے استفادہ کر رہے ہوتے۔یادر ہے کہ ایک چٹائی کے علاوہ جامعہ احمدیہ کے فرنیچر میں ایک شکستہ کرسی بھی شامل تھی۔تھوڑے عرصے کے بعد ہی جامعہ احمد یہ چنیوٹ اور پھر احمد نگر منتقل ہو گیا۔احمد نگر میں جامعہ احمدیہ کا ہوٹل جس نیم پختہ عمارت میں شروع ہوا وہ اصطبل کے نام سے جانی جاتی تھی۔اس کے نیم تاریک کمروں کی صفائی میں وقار عمل ہی کام آتا رہا۔جامعہ کے اکثر بزرگ اساتذہ جذبہ خدمت سے سرشار تعلیم دینے میں منہمک ہو گئے۔طالب علم اپنی اپنی استعداد اور شوق کے مطابق استفادہ کرنے لگے۔اس جگہ بھی اکثر کلاسیں چٹائیوں پر ہی ہوتی تھیں۔اساتذہ کرام کی رہائش کی سہولت نا گفتہ بہ تھی۔ہماری خوراک بھی ابتدائی زمانے اور تنگی کی وجہ سے بہت عجیب تھی ایک وقت ایسا بھی آیا کہ گندم کے بعد موٹے چاول کی سپلائی بھی ممکن نہ رہی تو گاجروں میں گڑ ڈال کر گجریلا پکایا جاتا تھا جو عام طور پر انسانوں کی خوراک نہیں لگتی تھی نو جوانی کے زمانے میں ان عیاشیوں سے کئی لطائف جنم لیتے تھے اور اس طرح خدا تعالیٰ کے فضل سے زندہ دلی اور شگفتہ مزاجی قائم رہتی تھی۔یہاں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ جس زمانہ کا ذکر ہو رہا ہے وہ بہت ہی ستا زمانہ تھا۔297