زندہ درخت — Page 224
زنده درخت اتنے ہم وغم ہیں آپ نے جواب دیا جب فکر میرے پاس آتے ہیں میں منہ دوسری طرف کر لیتا ہوں۔میں بھی ایسا ہی کرتا ہوں۔خدا تعالیٰ کا میرے ساتھ عجیب سلوک ہے۔ساری زندگی ایسا ایسا کرم دیکھا ہے کہ بیان کرنے لگوں تو کتابیں لکھ دوں۔اکر موا اولادکم عشق پر زور نہیں اور وہ بھی بچوں سے عشق۔قادیان کی کوٹھڑی میں تنہا کس کس طرح بچوں کو یاد کرتے ہوں گے۔کوئی صاحب دل اندازہ کر سکتا ہے۔اس کی حقیقی جھلک آپ کی تحریروں میں ملتی ہے۔ہر لفظ کے پیچھے ایک جہانِ در داور پھر صبر ہے۔4-4-1950 بچے کیا بتاؤں میں نے اپنی بچیوں کو کس قدر عزیز رکھا جس کا خمیازہ بھگت رہا ہوں۔دل چاہتا ہے بچوں کو وصیت کروں کہ اولاد سے اس قدر محبت نہ کرنا کہ آنکھوں پر ہی بٹھا لو۔مگر دوسری جانب اخلاق ، رحم ، شفقت، متقاضی ہے کہ خوب پیار کیا جائے۔1950ء میں یہ انتظام ہوا کہ پاکستان اور ہندوستان کے بارڈر پر ایک مقررہ جگہ ( Man Land) پر بچھڑے ہوئے خاندان کچھ گھنٹوں کے لئے مل سکتے ہیں۔جماعتی نظام کے تحت ہم سب کو بارڈر پر لے جایا گیا۔وہاں ابا جان نے اپنے تیسرے بیٹے کو پہلی دفعہ دیکھا۔اشتیاق ملاحظہ کیجئے :- 9-6-1950 میں انشاء اللہ چار بجے قادیان سے روانہ ہو کر امرتسر رات ٹھہروں گا اور نو بجے دن آپ بارڈر پر تشریف لے آئیں۔والد صاحب محترم کو ضر ور لا وہیں۔اگر ہو سکے تو سب میرے قریبی رشتہ داروں کو میرے آنے کا پروگرام بتا دیں کہ پھر 224