زندہ درخت

by Other Authors

Page 154 of 368

زندہ درخت — Page 154

زنده درخت 24- درویشی کے زمانے کے ابتدائی حالات 1947ء میں میں نے اللہ تعالیٰ سے ایک سودا کیا۔خود کو مرکز کی حفاظت کے لئے پیش کر دیا۔بیوی اور اولادکو خدا کے حوالے کر دیا۔ہر طرف قیامت کبری کا سماں تھا۔ہوش ربا مناظر تھے۔ہولناک حقائق تھے۔ہر طرف موت نے منہ کھولا ہوا تھا۔متاع دُنیا کی بے ثباتی واضح حقیقت کی طرح سامنے تھی۔یہ فیصلہ جن حالات میں ہوا اُس کی الگ کہانی ہے۔قادیان کے اردگرد کے گاؤں دیہات سے ہزاروں افراد قادیان کو نسبتا محفوظ سمجھتے ہوئے قادیان آگئے۔کچھ خاندانوں نے بالکل ہمارے گھر کے سامنے ڈیرہ ڈال لیا۔بالکل بے سروسامانی اور کسمپرسی کی حالت دیکھ کر میں نے انہیں اجازت دے دی کہ ہمارے گھر آکر روٹی پکا لیا کریں۔گھر سے مربہ اچار سالن وغیرہ مہیا کر دیا جاتا۔ایک دن اُن خواتین کو آنے میں کچھ دیر ہوگئی استفسار پر علم ہوا کہ اُن کی دو جوان لڑکیاں بدمعاش اُٹھا کر لے گئے ہیں۔اس خبر کے بعد جان و آبرو بچانے کے لئے بیوی بچوں کو قادیان سے رُخصت کرنا ضروری ہو گیا۔ایک خواب میں بھی اللہ تعالیٰ نے میری رہنمائی فرمائی تھی۔اللہ تعالیٰ کا احسان دیکھئے کہ قادیان پر حملے سے ایک دن پہلے مکرم کیپٹن عمر حیات صاحب اور مکرم اشرف نسیم صاحب کے تعاون سے سفر ہجرت ممکن ہوا۔اللہ تعالیٰ اجر عظیم سے نوازے۔بیوی بچوں کو بھیج کر گھر واپس آئے تو عجیب وحشت پھیلی ہوئی تھی۔میرا بڑا بیٹا عبدالمجید نیاز میرے ساتھ تھا۔خالی گھر میں سامان بکھرا پڑا تھا۔چاہت سے خریدا ہوالکڑی کا فرنیچر جس میں اخروٹ کی لکڑی کی چیزیں بھی شامل تھیں تو ڑ تو ڑ کر پناہ گزینوں کو چولہا جلانے کے لئے دے رہے تھے۔باہر کر فیوں گا ہوا تھا۔دارالفتوح کے جس مکان میں ہم رہتے تھے۔اُس کے نیچے کی دوکا نہیں باٹا شو اسٹور والوں نے کرایہ پر لے رکھی تھیں۔شام کے وقت ملٹری کے سپاہی آئے گھر کے ارد گرد پہرہ لگا دیا۔دو آدمی باٹا شوز اسٹور کھول کر اندر آگئے اور اندر سے چٹنی لگا کر اپنی پسند 154