زندہ درخت

by Other Authors

Page 153 of 368

زندہ درخت — Page 153

زنده درخت 1968ء میں دیا وہ بھی ایک ماہ کے لئے آخر اللہ تعالیٰ نے فضل فرمایا۔اور حالات درست ہوئے۔حیرت ہے کہ ایک کمزور سے آدمی کے سہو نعرہ لگانے سے اس قدر کھلبلی مچی اس سلسلہ میں یہ لطیفہ بھی قابل ذکر ہے کہ حضرت مرزا طاہر احمد خلیفۃ اسیح الرابع ( خلافت سے قبل) قادیان تشریف لائے جب ان کو یہ سارا واقعہ سنایا تو وہ سن کر بہت محظوظ ہوئے اور کہنے لگے کہ اس پر مجھے پہلوان والا لطیفہ یاد آ رہا ہے کہتے ہیں کہ کوئی اونچالمباشہ زور پہلوان اپنی ٹنڈ پر مکھن ملے پورے روایتی انداز میں چلتا جارہا تھا اتفاق سے پیچھے کوئی بونا جارہا تھا پہلوان کی ٹنڈ دیکھ کر اس کا جی چاہا کہ اس پر زور سے ٹھونگا لگا دے مگر ڈر بھی لگتا تھا۔دو تین دفعہ پہلو ان کے پاس جا کر واپس آجاتا مگر آخر آنکھیں بند کر کے پورا زور لگا کر چھلانگ لگائی اور پہلوان کے سر پر زور کا ٹھونگالگا دیا پہلوان نے مڑ کر دیکھا تو اسے بہت غصہ آیا۔بونے کو زمین پر گرا کر اوپر پاؤں رکھ کر مارنے لگا تو بونے نے کہا کہ اب اگر تم مجھے مار بھی دور تو تمہیں وہ مزا نہیں آئے گا جو مجھے سر پر ٹھونگا مارنے کا آیا ہے۔اعزہ واقرباء کی خدمت: اللہ تعالیٰ نے مجھے اپنے عزیز رشتے داروں کی خدمت کی بھی توفیق عطا فرمائی۔میری بیوی کے رشتے دار بھی مجھے بہت عزیز تھے قادیان بلانے اور یہاں رہائش اور کاروبار شروع کرنے میں جو ہو سکا خدمت کی۔میں خود کیا ذکر کروں سب عزیز جانتے ہیں اللہ تعالیٰ سب کو شاد آبادرکھے۔153