زندہ درخت — Page 145
زنده درخت موعود نے حضرت مولوی عبد الکریم سے فرمایا کہ بچہ رات کو روتا ہے میں اس کی تکلیف سے سو نہیں سکتا ہے۔یہ ذکر شیخ محمد نصیب صاحب نے سنا تو بیتاب ہو کر حضرت مولوی عبد الکریم سے عرض کی میں چاہتا ہوں میری بیوی بچے کو دودھ پلا دے۔مولوی صاحب نے فرما یا شیخ صاحب جس نے دودھ پلانا ہے اُس سے پوچھ کر فیصلہ کریں۔اُسی وقت حضرت حکیم نورالدین صاحب (خلیفہ اسیح الاول) سے بھی ذکر ہوا آپ نے بھی یہی فرمایا کہ جس نے دودھ پلانا ہے اُس سے پوچھ لیں۔مکرم شیخ صاحب نے اپنی اہلیہ سے پوچھا وہ تیار ہوگئیں۔حضرت اقدس کی خدمت میں درخواست پیش کی گئی تو آپ نے فرمایا اُن کو ابھی بلا لیں آپ کے آنے تک ایک کمرہ اُن کی رہائش کے لئے تیار کیا گیا۔اُس کمرے میں کئی برتن دودھ کے رکھے تھے۔شیخ صاحب نے عرض کیا حضور اس قدر دودھ؟ آپ نے فرمایا جس عورت نے دو بچوں کو دودھ پلانا ہوا گر وہ خود نہ پئے گی تو اُن کو کہاں سے پلائے گی۔یہ کمرہ بیت کے راستے میں پڑتا ہے۔ایک دن حضور نے جاتے ہوئے تیس روپے چار پائی پر رکھ دئے۔شیخ صاحب نے جب تیس روپے دیکھے تو جا کر حضور کی خدمت میں عرض کی کہ تھیں روپے کمرے سے ملے ہیں آپ نے فرمایا شیخ صاحب میں نے خود رکھے ہیں اس لئے کہ آپ کی تنخواہ کم ہے اور آج کل خرچ زیادہ ہو رہا ہے۔شیخ صاحب بیان کرتے ہیں کہ ہم نے اس روپے کا زیور بنالیا تا کہ دیر تک تبرک محفوظ رہے۔حضرت اُم ناصر زیادہ علیل ہوئیں تو لاہور لے جانے کا فیصلہ ہوا۔شیخ صاحب اور اُن کی اہلیہ کوبھی ساتھ لاہور لے گئے بعد میں شیخ صاحب تو لاہور سے واپس آگئے مگر اہلیہ ساتھ ہی رہیں۔اللہ تعالیٰ نے اُن کی بچی کو واپس اپنے پاس بلا لیا اہلیہ شیخ صاحب بہت غمزدہ ہوئیں اور روتی تھیں۔آخر حضرت اقدس سے اجازت مانگی کہ ان کو کچھ عرصہ اپنی والدہ صاحبہ کے پاس بھیج دیا جائے تا کہ کچھ طبیعت بہل جائے آپ نے بہت خوشکن جواب دیا۔شیخ صاحب بعض اوقات کسی تکلیف کو زیادہ محسوس کرنے سے آنے والی نعمت خدا روک لیا کرتا ہے میں دعا کروں گا اللہ تعالیٰ آپ کو ایک لڑکی کی بجائے دولڑ کے عطا فر مادے 145