زندہ درخت

by Other Authors

Page 132 of 368

زندہ درخت — Page 132

زنده درخت تھی دوسرے مجھے پانی میں سفر کرنا دلچسپ لگتا تھا۔کشتی والے نے مجھے کارڈ پر درج پتے کے مطابق سرائے تاشقندی پر اُتار دیاوہ ایک وسیع سرائے تھی جس میں سارا تاشقند کا مال آتا تھا۔پھر وہاں سے محصول ادا کر کے باہر آتا تھا۔سارا سٹاک وہاں ہونے کی وجہ سے کثرت سے تاجر آجارہے تھے بھیڑ سی لگی تھی۔کوئی لانے والا کوئی خرید کر جانے والا میں نے گیٹ پر ٹکٹ دکھایا تو گیٹ کیپر نے ایک آدمی کو بلا کر مجھے ساتھ لے جانے کو کہا۔خفیف سے تلاشی بھی ہوئی میرے پاس صرف ٹریکٹ تھا۔وہ خوش پوش شخص مجھے ساتھ لے کر دوسری منزل پر جارہا تھا راستے میں ایک خوش شکل وجیہہ باوقار شخص ملے جو غالباً سرائے کے انچارج تھے۔مجھ سے پوچھا : آپ کہاں سے تشریف لائے ہیں؟ میں نے بتایا کہ ابھی تو فلاں محلے سے آیا ہوں لیکن رہنے والا قادیان کا ہوں۔اُس نے میرا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لیا اور کہا کہ قادیان میں ایک شخص سے میرے دوستانہ تعلقات ہیں۔میں نے نام پوچھا تو بتایا بشیر الدین محمود احمد مجھے بہت خوشی ہوئی اُس نے میرے امام کا نام عزت سے لیا تھا۔جب میں اوپر والی منزل پر پہنچا تو کیا دیکھتا ہوں کہ ایک بڑا کمرہ ہے جو تاشقندی نمدوں اور قالینوں سے خوب سجا ہوا ہے۔کمرے میں تقریباً پندرہ آدمی موجود تھے جو میرے داخل ہونے پر تعظیم کے لئے کھڑے ہو گئے اور میرا تعارف ایک معمر شخص سے کروایا۔نمائش والا سارا قصہ دہرایا۔گفتگو شروع ہوئی جو تقریباً دو گھنٹے جاری رہی۔بہت سنجیدہ لوگ تھے۔نماز با قاعدگی سے ادا کرتے۔ایک صفت اُن میں عجیب دیکھی اگر اُن میں سے کسی کو باہر جانا ہوتا تو کسی دوسرے کو بلا کر اپنی جگہ پر بٹھاتا اور پھر جاتا۔اطمینان سے میری باتیں سنیں اور بڑے ادب سے کہا کہ ہم آپ کے دلائل کا کما حقہ جواب نہیں دے سکتے البتہ ہم تاشقند جا کر اپنے شہر کے علماء سے بات کریں گے۔آپ کے استدلال سے ہم 132