زندہ درخت — Page 121
زنده درخت بھی بن جاتی اللہ تعالیٰ اپنے بندوں سے خوب کام لیتا ہے۔فجزاہ اللہ تعالیٰ احسن الجزاء۔vii- مولوی عبد الغفار غزنوی صاحب کو دعوت الی اللہ : مکیریاں قیام کے دوران قادیان سے ناظر صاحب دعوت الی اللہ کی تار ملی کہ آپ کی والدہ صاحبہ بیمار ہیں جلدی قادیان پہنچ جائیں۔تیزی سے اسٹیشن پہنچا مگر جالندھر کے اسٹیشن پر رش کی وجہ سے سوار نہ ہو سکا کسی دوسری ٹرین میں دو گھنٹے کا وقفہ تھا۔میں نے سوچا نہ جانے پھر کب آنا ہو۔چلو کسی کو دعوت الی اللہ کے لئے تلاش کریں۔اس نیت سے نظر اُٹھائی تو ایک لمبا اونچا خوبصورت وجیہ خوش پوش ہاتھ میں نفیس چھڑی سر پر رومی ٹوپی شہزادوں کی سی آن بان لئے ایک شخص نظر آیا۔پہلے تو میں اپنی رو میں اُس کی طرف بڑھا۔پھر سوچا ایسا نہ ہو کوئی نواب شواب ہو براہی مان جائے۔اندر سے نفس نے دھکا دیا ظاہری رعب داب سے ڈر گئے دعوت الی اللہ میں خوف کیسا؟ آگے بڑھ کے دعا سلام کے بعد قادیان والے مرزا صاحب کا تعارف کروایا۔کہ ایک شخص امامِ جہاں بنایا گیا ہے۔اُس نے بے ساختہ کہا: آپ کی مراد مرزا غلام احمد قادیانی سے ہے۔جی ہاں آپ ہی کا ذکر ہے۔اوہ میں تو اُنہیں دائرہ دین حق سے خارج سمجھتا ہوں اُس نے بہت رعونت سے کہا۔میں نے دلیری سے کہا یہ دائرہ آپ نے کھینچا تھا یا آپ کے والد صاحب نے۔اسٹیشن تھا، سواریاں فارغ تھیں، سب جمع ہو گئے۔گفتگو دلچسپ ہورہی تھی ہندو، سکھ مسلم دلچسپی سے ئن رہے تھے۔اُس نے یہ اعتراض کیا کہ مرزا صاحب نے پچاس کتابیں لکھنے کا وعدہ کیا قیمت بھی لے لی اور صرف پانچ لکھ کر کہہ دیا یہ پچاس کے برابر ہیں میں نے عرض کیا کہ جب فرض نماز پچاس سے پانچ رہ گئیں تو اعتراض نہ ہوا۔مجمع دیکھ رہا تھا کہ ایک دبلا پتلا غریب کمزور لڑکا ایک زبر دست امیر آدمی پر بھاری پڑ رہا تھا۔اس لئے اُس نے بات 121