زندہ درخت

by Other Authors

Page 113 of 368

زندہ درخت — Page 113

زنده درخت کے قریب پہنچ گئے۔ہماری زندگی کو خدا تعالیٰ نے کیسے کیسے بزرگوں سے جوڑ دیا۔یہ سب اُس کا احسان ہے، اُس کا جتنا بھی شکر کریں کم ہے۔یہ میری خوش نصیبی ہے کہ معمولی سے ہنر کی کہاں کہاں قدر ہوئی۔الحمد للہ۔iv- حضرت ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب کا حسن سلوک: حضرت میر صاحب خاکسار سے دوستانہ بلکہ برادرانہ سلوک رکھتے تھے۔باوجود ہر لحاظ سے بلند مرتبہ ہونے کے آپ کے مزاج میں خاکساری اور دوست نوازی تھی۔مجھے جب کوئی فیصلہ کرنا ہوتا آپ سے مشورہ کرتا۔آپ کئی طرح میرے شریک حال رہے۔جب بھی آپ کی یاد آتی ہے اللہ تعالیٰ سے دُعا کرتا ہوں کہ مولیٰ کریم میرے محسن سے احسان کا سلوک کرنا۔ان گنت واقعات ہیں۔مثال کے طور پر میرے بورڈ پڑھ کر کئی پہلو سے خوش ہونا۔ایک دفعہ عید کا دن تھا۔میں نے بورڈ پر لکھا:- لو بیٹا ایک روپیہ، آج عید ہے عبدالرحیم سے گلاب جامن لے آؤ حضرت میر صاحب پڑھ کر بہت ہنسے۔داد تحسین عطا کی پھر فرمایا آپ کے پاس ایک روپیہ ہے؟ میں نے روپیہ نکال کر پیش کر دیا۔آپ نے روپے کا نوٹ فریم کی کیل پر ٹانگ کر فرمایا:- میاں عبد الرحیم اب آپ کا بورڈ ہر جہت سے مکمل اور مؤثر ہو گیا ہے“ اب سوچتا ہوں کہاں میں اور کہاں یہ عالم فاضل ہستیاں، زندگی کیسی پر لطف گزری ہے۔حضرت میر محمد اسمعیل صاحب کی غریب نوازی اور مجزا نہ مسیحائی کا ایک واقعہ ہے۔میری اہلیہ آمنہ بیگم کی بہن مہر بی بی صاحبہ ڈیر یا نوالہ ضلع سیالکوٹ میں رہتی تھیں اُن کا جبڑا اپنی جگہ سے ہل گیا۔زیادہ ہنسنے یا اباسی لینے میں منہ جو کھلا تو کھلا رہ گیا۔بے حد تکلیف تھی۔وہ لوگ اُنہیں سیالکوٹ، نارووال وغیرہ میں دکھاتے رہے مگر فائدہ نہ ہوا۔میں نے حضرت میر 113