زندہ درخت

by Other Authors

Page 77 of 368

زندہ درخت — Page 77

زنده درخت جنوری 1953ء میں حضرت مصلح موعود نے ربوہ میں پاکستان بھر کے احمدی مبلغین کو شرف باریابی بخشا اور انہیں نہایت قیمتی نصائح سے نوازا یہ ملاقات دس سے بارہ بجے تک جاری رہی۔اس زمانہ میں حضرت سید زین العابدین ولی اللہ صاحب ناظر دعوۃ و تبلیغ تھے۔حضور سے شرف باریابی حاصل کرنے والے مربیان میں حضرت مولانا غلام رسول را جیکی صاحب،حضرت مولا نا عبدالغفور صاحب، مولانا احمد خان صاحب نیم ، حضرت مولا نا رحمت علی صاحب کے علاوہ مولانا چراغ دین صاحب مربی راولپنڈی بھی شامل تھے۔تاریخ احمدیت جلد 17 صفحہ 192 ضلع روالپنڈی تاریخ احمدیت صفحہ 372،371) آپ کی وفات پر حضرت مولانا ابوالعطاء صاحب نے الفضل میں ایک نوٹ تحریر فرمایا جس میں سے ایک اقتباس حاضر ہے: مولانا مرحوم دو سال پیشتر قواعد صدرانجمن احمدیہ کے ماتحت ریٹائر ہو چکے تھے۔مگر وہ ولولہ اور جوش ، جو ابتدا سے آپ کو اپنے نیک باپ سے ورثہ میں ملا تھا اور جسے بہترین اساتذہ نے جلا بخشا تھا، آپ کو آرام سے بیٹھنے نہیں دیتا تھا۔چنانچہ مجالس انصار اللہ میں آپ زعیم اعلیٰ تھے اور جہاں موقعہ ملتا آپ شوق سے تقریر وغیرہ کے لئے تشریف لے جاتے۔ابھی نومبر کے آخری عشرہ میں ہم چک 42 سرگودھا گئے تھے۔مولوی صاحب موصوف نے وہاں ایک پر جوش تقریر فرمائی تھی۔میں نے طالب علمی اور خدمات سلسلہ کے طویل عرصہ میں اخویم محترم مولانا ابوالبشارت صاحب کو نہایت متقی اور سلسلہ کا غیور سپاہی ہی پایا ہے۔آپ نے تقریر اور مباحثہ کے میدان میں بھی نمایاں خدمات سرانجام دی ہیں۔تقسیم ملک سے پہلے اڑیسہ، شکر گڑھ کے علاقہ میں عرصہ دراز تک متعین رہے اور ہندوستان پھر پاکستان کے اکثر علاقوں کا تبلیغی دورہ کیا۔ملک کے طول وعرض میں۔۔۔۔۔۔احمدیت کی صداقت کا اعلان فرماتے رہے۔آپ کی طبیعت تکلف اور ریا کاری سے بہت دور تھی۔سفر میں ساتھیوں کا بہت خیال رکھتے تھے اور ایک زندہ دل ساتھی 77