زندہ درخت

by Other Authors

Page 62 of 368

زندہ درخت — Page 62

زنده درخت منادی کی پکار کو نا اور سر تسلیم کم کر دیا۔قدرت نے حق کی طرف رہنمائی کے لئے خوابوں کے ذریعے سامان کیا تھا۔اور اپنے پیارے مسیح کی طرف آنے کے راستے خود سمجھائے تھے۔پہلی دفعہ جب آپ قادیان پہنچیں تو میاں صاحب سے کہا کہ اب آپ مجھے راستہ نہ بتائیں بلکہ میرے ساتھ ساتھ آئیں اب میں اس راستے سے جاؤں گی جو خوابوں میں دیکھا کرتی ہوں۔چنانچہ آپ خود چلتی ہوئی دار اسیح تک پہنچ گئیں۔جب پہلی مرتبہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے رخ انور پر نگاہ پڑی تو پہچان گئیں کہ یہ وہی بزرگ ہیں جن کو خواب میں دیکھا تھا اور فوراً بیعت کر لی۔اور اُن مؤیدین میں شامل ہو گئیں جن کے لئے اللہ تعالیٰ نے وعدہ دیا تھا۔يَنْصُرُكَ رِجَالٌ نُّوحِي إِلَيْهِمُ مِّنَ السَّمَاءِ بیعت کے ساتھ ہی قادیان اور اہلِ قادیان کی محبت دل میں گھر گئی اپنے شوہر سے فرمائش کی کہ میں آپ سے کچھ نہیں مانگتی صرف یہ وعدہ کریں کہ مجھے قادیان جانے سے نہیں روکیں گے۔ہرسیاں سے قادیان کے چکر لگنے لگے عموماً نماز جمعہ کے لئے قادیان جاتے۔آپ کی ایک سہیلی محترمہ برکت بی بی جس کا تعلق تلونڈی جھنگلاں سے تھا، بھی آپ کے ساتھ اکثر قادیان آتیں۔ہرسیاں سے قادیان جمعہ پڑھنے جانے کا ذکر حضرت منشی سر بلند خان صاحب کے بیعت کے واقعے میں بھی ملتا ہے آپ لکھتے ہیں : میں نے اپنی رہائش موضع شیر پور میں اختیار کر لی ہر سیاں گاؤں ساتھ تھا وہاں مولوی عبد الغفور صاحب فاضل مرحوم کے والد میاں فضل محمد صاحب رہتے تھے۔اُن کی صحبت حاصل ہوگئی اور میں نے ان کے ساتھ ہر جمعہ کو قادیان جانا شروع کیا۔لاہور تاریخ احمدیت صفحہ 341) حضرت برکت بی بی صاحبہ قادیان آتیں تو حضرت اماں جان کے پاس ہی قیام ہوتا آپ آتے ہی گھر کے کاموں میں ہاتھ بٹانے لگتیں۔کھانے پکانے میں کافی مہارت تھی 62