زندہ درخت

by Other Authors

Page 45 of 368

زندہ درخت — Page 45

زنده درخت جابہ تک کا کل سفر اسی میل کا تھا جو رات کا وقت اور راستوں سے ناواقفیت کی وجہ سے کافی طویل لگا رات دو بجے کوٹھی پہنچے تو کار دیکھ کر تین آدمی باہر آئے ان میں سب سے آگے میرے دیرینہ دوست شیر ولی صاحب تھے۔مجھے وہاں دیکھا تو حیران رہ گئے خوب گرمجوشی سے گلے لگایا اور اپنے مخصوص انداز میں پوچھا: ” بھائی آپ کہاں؟“ انہیں سارا واقعہ سنایا اتنے میں وہ گرما گرم ناشتہ لے آئے۔اور کہا کہ صبح کی نماز حضور یا ڈاکٹر حشمت اللہ صاحب پڑھائیں گے انہیں چٹھی دے دی جائے گی۔یہی ہوا صبح ڈاکٹر صاحب نے نماز پڑھائی تو چٹھی دے دی۔آپ نے اُسی وقت پیغام بھجوایا کہ میاں عبدالرحیم سے کہہ دیں کہ آپ واپس چلے جائیں میں چار بجے کے قریب ربوہ آ کر نماز جنازہ پڑھاؤں گا۔ابھی ہم وہاں سے روانہ نہیں ہوئے تھے کہ اندر سے ایک بچی بھاگتی ہوئی آئی اور کہا کہ حضور فرماتے ہیں کہ میاں عبدالرحیم سے کہہ دیں ناشتہ کر کے جاویں میں نے عرض کیا کہ ناشته تو با با شیر ولی نے رات ہی کروا دیا تھا۔اس طرح بابا شیر ولی صاحب اللہ تعالیٰ انہیں جزائے خیر سے نوازے میرے والد صاحب کی وفات کے وقت انتہائی دل گرفتگی کے عالم میں سکینت کا باعث بنے۔حضرت مصلح موعود حسب وعدہ تشریف لائے۔8 رنومبر 1956ء کو جنازہ پڑھایا مغرب کے بعد بہشتی مقبرہ ربوہ میں آپ کو سپردخاک کر دیا گیا اللہ تعالیٰ کے فضل سے انجام بخیر ہوا۔45 15