زندہ درخت — Page 342
زنده درخت حاضر کیا گیا اُس نے اپنا کیس یوں بیان کیا کہ حضور! ایک دن پہاڑ کی طرف سے گورداسپور آرہا تھا کہ سڑک پر پڑی ہوئی ایک تفصیلی ملی میں نے اسے اٹھا لیا ابھی کھول کر دیکھا بھی نہیں تھا کہ اس میں کیا ہے۔اتنے میں مدعی اپنا گھوڑا دوڑا تا ہوا پریشان حال آیا جیسے کچھ تلاش کر رہا ہو۔میں نے تھیلی اُس کے حوالے کی وہ بے حد خوش ہوا۔اور بہت شکریہ ادا کر نے لگا۔گورداسپور سے واپسی پر اس سے ملاقات ہو گئی اس نے بے حد اصرار کیا کہ ایک رات اُس کے گھر ٹھہروں اور کچھ آرام کر کے آگے روانہ ہو جاؤں۔اصرار اتنا بڑھا کہ مجھے رکنا پڑا۔بے حد خاطر مدارت کی قیام و طعام کا ہر طرح خیال رکھا۔راتوں رات پتہ نہیں کیا اس کو کسی نے سکھا پڑھا دیا کہ اس نے مجھ پر دعوی کر دیا۔ہوا یوں تھا کہ کسی شخص نے اُس سے کہا تھا کہ بظاہر یہ پھٹے پرانے کپڑے پہنے غریب سا آدمی دکھائی دیتا ہے مگر بہت امیر کبیر ہوگا جو یوں پانچ سو اشرفی کی تھیلی واپس پکڑا دی ایک ہزار کا مطالبہ کر دو چنانچہ وہ کہنے لگا کہ بھائی میں شکر گزار ہوں تم نے میری تھیلی سے پانچ سو اشرفی لوٹا دی باقی پانچ سو بھی لوٹا دو تو اچھا ورنہ پولیس کو بلوا نا پڑے گا۔اور پھر مجھے پکڑ لیا گیا میری کہانی بس اس قدر ہے کہ سڑک سے جو تھیلی اُٹھائی اس کو تلاش کرتے دیکھ کر اُس کو دے دی۔مدعی نے کہا کہ اس تھیلی میں ہزار اشرفی تھی۔اس نے پانچ سو دے دی باقی اس سے دلائی جائے۔حج معاملہ کی تہہ کو پا گیا۔اور مجھے کہا کہ پانچ سو اشرفیاں گن کر ایک تھیلی میں ڈالو اس کو اُٹھاؤ اور گھر جاؤ۔دو سپاہی ساتھ حفاظت کے لئے گئے اور کہا اب اس کو گھر چھوڑ آؤ پھر مندگی سے کہا۔بھائی تمہاری تو ہزار اشرفی کھوئی ہے یہ تمہاری تھیلی نہیں ہوگی تم اپنی تھیلی تلاش کرتے پھر یہی سزا ہے۔س کفر سے باز آیا: حضرت حکیم صاحب نے سنایا کہ ایک بہت امیر ہندو کو دین حق کے متعلق تحقیق کی جستجو ہوئی اپنے ارد گرد علما جمع کر لئے اور اُن سے دینِ حق کی خوبیاں اور مسائل سننے لگا۔ان علماء 342