زندہ درخت

by Other Authors

Page 335 of 368

زندہ درخت — Page 335

زنده درخت یا بھوک پیاس سے بے دم ہو کر روزہ قائم نہ رکھ سکے تو بعد میں ایک ہی روزہ رکھنے کا حکم ہے۔ایک کے بدلے ساٹھ 60 روزے رکھنے کا حکم اللہ تعالیٰ نے دیا ہے نہ رسول اللہ نے۔اس پاک زبان سے یہ ارشاد مجھے آج تک پورا پورا یاد ہے۔پھر آپ اندر تشریف لے گئے۔میں نڈھال سا ہو کر پڑ کے سو گیا۔تھوڑی دیر کے بعد آپ ظہر کی نماز کے لئے تشریف لائے نماز ظہر ادا کی۔میں نماز سے فارغ ہو کے سفر کے لئے تیار ہوا۔حضرت نے فرمایا میں آپ کو ہرگز نہ جانے دوں گا۔میں نے اپنی جہالت میں رکنے سے انکار کیا تو آپ نے شفقت سے اصرار فرمایا کہ ابھی نہ جائیں۔میں نے عرض کی کہ مجھے اس لئے بھی جانا لازم ہے کہ میں نے اپنے ساتھیوں سے جو ڈھپئی میں ہیں وعدہ کیا تھا۔پھر حضرت نے مجھے پکڑ کر ٹھہرالیا اور فرمایا تھوڑا ساڑکیں میں گھر سے ہو کر آتا ہوں۔اندر سے واپس تشریف لائے تو ہاتھ میں اخبار تھا۔جس میں لکھا تھا کہ ایک ہفتے میں تین افراد لقمہ اجل بنے۔تین جگہ سے مختلف روزے دار اُجاڑ جگہ پیاس کی شدت سے مر گئے۔اگر سفر سے باز نہیں آؤ گے تو اسی طرح آخر کار کسی اُجاڑ میں مرجاؤ گے۔میری بات یاد رکھو میں نے کہا میں تندرست جوان آدمی ہوں تیز تیز چلتا ہوں، ابھی بھوک پیاس بھی نہیں ہے۔تین چار میل کا سفر ہے اب تو دھوپ بھی ڈھل گئی ہے جانے کی اجازت دیجئے۔حضرت نے فرمایا تم چاہو یا نہ چاہو یہیں رُکنا پڑے گا۔اب تکرار نہیں کرنا۔عصر کے وقت نماز سے فارغ ہو کر حضرت اقدس نے میری طرف اشارہ کر کے فرمایا کہ اس کے اوپر کنوئیں سے بو کے نکال کر مسلسل پانی ڈالو۔دھار نہ ٹوٹے۔میں اس پیار بھرے حکم سے بہت حیران ہوا۔مجھے دوستوں نے کہا کہ آپ کنوئیں کے کنارے بیٹھیں ہم نے آپ پر پانی ڈالنا ہے۔میں نے کہا مجھے تو پیاس کی کوئی خاص تکلیف نہیں۔پانی ڈالنے کی ضرورت نہیں سمجھتا۔دوستوں نے کہا اگر آپ کو ضرورت سمجھ نہیں بھی آرہی تو نہانے میں کیا حرج ہے۔میں کنوئیں کے پاس جا کر بیٹھ گیا انہوں نے مجھ پر پانی ڈالنا شروع کر دیا۔کوری بو کا کنوئیں سے باری 335