زندہ درخت

by Other Authors

Page 327 of 368

زندہ درخت — Page 327

زنده درخت سامان پڑا تھا۔دل چاہتا تھا کہ آگ لگا دیں مگر رحم کر دیا ہے۔حضرت صاحب نے فرمایا :- اللہ بخش دیکھو میں لوگوں کی خاطر و مدارت کرتا ہوں کھانا کھلاتا ہوں۔ایمان سکھاتا ہوں اور لوگ اُلٹا مجھے نقصان پہنچانے کی کوشش کرتے ہیں اور نہ پہنچا سکنے کی صورت میں احسان جتلانے ہیں۔نوٹ :- یہ روایات بابا حکیم اللہ بخش صاحب 1938-12-20 کو مجھ سے زبانی کہیں اور میں نے رجسٹر پر ہی نوٹ کر لیں۔الگ فارم پر نہیں لکھا۔خاکسار عبد القادر موتی بازار منظوم سوانح عمری 20-12-38 مندرجہ بالا روایات حضرت حکیم صاحب نے 80 سال کی عمر میں لکھوائیں جبکہ اپنی آپ بیتی پر مشتمل نظم موتی بازار 45 سال کی عمر میں کہی۔حافظہ قوی اور ذہن مستحضر تھا۔جزئیات کی منظر کشی بہت دلفریب ، سادہ ، اخلاص و فدائیت سے معطر اور سچائی سے منور ہے۔مکمل نظم درج کرنا دلچسپی سے خالی نہ ہوتا مگر اب پنجابی پڑھنے اور سمجھنے والے کم ہیں۔اس لئے میں نے اس کا سادہ اردو تر جمہ کیا ہے۔مجھے بھی بعض جگہ دقت پیش آئی۔مگر مفہوم بہر حال واضح ہو گیا ہے۔پنجابی محاورے کا لطف قائم رکھنے کے لئے کہیں کہیں اشعار بھی لکھے ہیں ملاحظہ فرمائیے :- احمدیت سے تعارف اور قبولیت کا سفر میں یوسف کی طرح اپنے بھائیوں کا خیر خواہ ہوں۔اچھی باتیں سنانے کے لئے پوری کوشش کروں گا۔کوئی کان نہ دھرے گا تو چھت پر چڑھ کر با آواز بلند اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی باتیں سناؤں گا۔قرآن پاک سناؤں گا۔اگر میرا کوئی قصور دیکھو تو مجھے بتاؤ۔میں قہار جبار خدا سے ڈرتا ہوں۔استغفار کروں گا۔مجھے خدا تعالیٰ نے یہ سمجھ دی ہے کہ دنیا میں پھیلے مذہبوں کی بد اعتقادیاں تمہیں بتا سکوں۔مسلمانوں میں رائج کمزوریاں بیان کرسکوں۔327