زندہ درخت — Page 321
زنده درخت آخری عمر کا زیادہ حصہ اپنی چھوٹی بیٹی آمنہ بیگم اور داماد میاں عبدالرحیم صاحب دیانت ( درویش قادیان) کے پاس ہی گزرا۔وہیں وفات پائی اور بہشتی مقبرہ میں تدفین ہوئی۔آپ کے حالات جاننے کا اہم ترین ذریعہ رجسٹر روایات میں مذکورہ روایات ہیں۔دوسرے آپ کا پنجابی کلام ہے ( موتی بازار نام کی کتاب میں آپ نے اپنی سوانح نظم کی ہے۔تیسرے آپ کے داماد کا لکھا ہوا مضمون ہے جو بہت دلچسپ واقعات پر ت۔اس طرح اس فنافی اللہ بزرگ کی سیرت کے کافی پہلو سامنے آجاتے ہیں۔مشتمل ہے -1- روایات بیان فرمودہ حضرت حکیم اللہ بخش صاحب رجر روایات صحابہ نمبر 4 صفحات 60 تا 67 حکیم صاحب نے مجھ سے بیان فرمایا کہ:- ایک شخص خواجہ عبداللہ ساکن سوہل ضلع گورداسپور نے مجھے کہا کہ آپ کو مولویوں سے ملنے کا بہت شوق ہے مگر اس وقت مولوی صاحبان کا حال چال اور ہی ہے۔ان لوگوں کو در حقیقت دین کا کچھ شوق نہیں اپنے دنیاوی معاملات کے متعلق خود غرض اور پیسے حاصل کرنے کا شوق ہے۔اس لئے اگر آپ حق پرست مولوی کو دیکھنا چاہتے ہیں تو قادیان میں مرز اغلام مرتضیٰ صاحب کا نوجوان لڑکا ہے۔اس کو دیکھیں۔نماز میں گداز اور دین کے ہر ایک کام میں مستعد اور تمام مذاہب کی کتابیں آپ کے پاس موجود ہیں۔کبھی تو ریت وانجیل کبھی کسی اور ہی غیر مذہب کی کتابیں دیکھتے رہتے ہیں۔اور قرآن شریف سے زیادہ محفوظ ہوتے ہیں۔چنانچہ میں قادیان میں حاضر ہو گیا اور حضرت صاحب کو بیت اقصیٰ میں ملا۔ساتھ جان محمد صاحب کشمیری بھی بیٹھے تھے۔جو بیت اقصیٰ کے امام تھے۔میں نے حضرت صاحب سے باتیں کیں اور براہین احمدیہ کی چوتھی جلد ساتھ لے گیا۔پھر کبھی کبھی آتا 321