زندہ درخت

by Other Authors

Page 302 of 368

زندہ درخت — Page 302

زنده درخت خاکسار کا پہلا میدان عمل جماعت کراچی تھی اور یہ جماعت کئی لحاظ سے دنیا بھر کی جماعتوں میں ایک نمایاں مقام رکھتی ہے۔اس جماعت کو حضرت چوہدری عبداللہ خان جیسے امیر اور حضرت مولانا عبد المالک خان جیسے مربی کی خدمات حاصل تھیں اور حضرت مصلح موعود کی خوشنودی اور بار باعلم انعامی کا حصول بھی اس جماعت کا ایک امتیاز تھا۔خاکسار کو آٹھ سال تک کراچی کی خدمت کا موقع ملا۔اس کے بعد ملتان اور جہلم میں بھی خدمات کا موقع ملا۔پھر ایسا اتفاق ہوا کہ صدر انجمن احمدیہ اور تحریک جدید کے ذمہ دار افسران نے تجربہ کے طور پر بعض مربیوں کو بیرون ملک بھجوانے کے لئے منتخب کیا جن تین مربیان کو اس مقصد کے لئے چنا گیا اُن میں اس خاکسار کے علاوہ مکرم قریشی محمد اسلم صاحب کا تقررگی آنا میں ہوا اور وہ وہاں مقام شہادت پر فائز ہوئے۔ہمارے تیسرے ساتھی مکرم عبدالحکیم جوزا صاحب تھے جو غانا مغربی افریقہ میں جامعہ احمدیہ کے پرنسپل کے طور پر خدمات بجالاتے رہے۔خاکسار تنزانیہ کینیا، زیمبیا زمبابوے اور ملاوی میں کم و بیش پندرہ سال خدمت کے بعد ر بوہ میں تصنیف کے کام پر مقرر ہوا فضل عمر فاؤنڈیشن میں کام کرتے ہوئے خاکسار کو سوانح فضل عمر کی تالیف کی سعادت حاصل ہوئی سوانح فضل عمر کی تالیف کے لئے سب سے پہلے حضرت ملک سیف الرحمان صاحب کی خدمات حاصل کی گئیں۔حضرت ملک صاحب نے بڑی محنت سے یہ کام شروع کیا۔تاہم پہلی دو جلدوں کی تالیف حضرت صاحبزادہ مرزا طاہر احمد (حضرت خلیفہ مسیح الرابع رحمہ اللہ نے فرمائی۔آپ کے منصب خلافت پر فائز ہو جانے کے بعد آپ کی غیر معمولی مصروفیات کی وجہ سے یہ ممکن نہ رہا کہ وہ اس کام کو تکمیل تک پہنچاتے۔آپ نے مولانا محمد شفیع اشرف صاحب مرحوم کو اس کام کے لئے مقرر فرمایا۔اشرف صاحب اس زمانہ میں ناظر امور عامہ کی حیثیت سے خدمات بجالا رہے تھے۔اس اہم ذمہ داری اور کثرت کار کی وجہ سے وہ اس کام کے لئے زیادہ وقت نہ نکال سکے۔اس طرح یہ بہت بڑی ذمہ داری خاکسار جیسے کم علم اور نا تجربہ کار شخص کو ملی۔سوانح فضل عمر پانچ جلدوں میں مکمل ہوئی۔جن میں سے تین کی تالیف کی سعادت بفضل الہی نصیب ہوئی۔302