زندہ درخت

by Other Authors

Page 301 of 368

زندہ درخت — Page 301

زنده درخت والے تھے انہیں کراچی بھجوادیا گیا ہے۔۔۔۔حضور کے ارشاد پر خاکسار واپس آکر پھر اسی خدمت کی انجام دہی میں مصروف ہو گیا۔اسی دوران ایک اور عجیب واقعہ ہوا۔خاکسارا اپنے ساتھیوں کے ساتھ احادیث کی نقل وغیرہ کا کام کر رہا تھا کہ اچانک ہمارے استاد مولانا ابوالمنیر نورالحق تشریف لائے۔باہر کھڑے کھڑے انہوں نے خاکسار کا نام لے کر پوچھا کہ وہ موجود ہے۔خاکسار لبیک کہتے ہوئے ان کے پاس گیا تو وہ فرمانے لگے کہ آپ کو حضرت صاحب نے یاد فرمایا ہے۔الفاظ سنتے ہی خاکسار کا نپ اُٹھا اور پسینہ آ گیا۔اس بات پر یقین ہی نہیں آرہا تھا کہ میرے جیسا نالائق سا گمنام سا ایک طالب علم اور حضرت مصلح موعود جیسے عظیم وجود کا بلاوا آیا ہو۔مولوی صاحب سے عرض کیا کیا اس خاکسار کو ہی بلایا ہے؟ کس لئے بلایا ہے؟ وغیرہ مگر مولوی صاحب کا ایک ہی جواب تھا کہ حضور خود بتائیں گے۔میں اپنی اس وقت کی حالت پوری طرح بیان نہیں کر سکتا انتہائی گھبراہٹ کی حالت میں دفتر پرائیویٹ سیکریٹری پہنچے۔محترم مولوی صاحب نے کاغذ پر عبد الباسط حاضر ہے لکھ کر دفتر کے کارکن کو دیا جیسے ہی وہ کارکن او پر حضور کی خدمت میں حاضر ہوا۔خاکسار کو حضور کی خدمت میں حاضر ہونے کا اشارہ ہوا۔مولوی صاحب میرے ساتھ تھے اگر میں غلطی نہیں کرتا تو حضور اُسی وقت اندر سے تشریف لائے تھے اور اپنی کرسی کی پشت پر ہاتھ رکھے کھڑے تھے۔حضور نے لمبا فرغل پہنا ہوا تھا۔خاکسار نے دست بوسی کا شرف حاصل کیا۔حضور نے خاکسار کی تعلیم کی متعلق بعض باتیں دریافت فرما ئیں اور بہت ہی حوصلہ افزائی فرمائی۔فرمایا کہ آدمی محنتی اور سمجھدار ہو تو کم تعلیم کے باوجود بڑے بڑے کام کر سکتا ہے۔اس حوصلہ افزائی کے بعد حضور نے بڑے اعتماد اور بڑے پیار سے تبویب اور اس سے متعلقہ سارے کاموں اور نصرت آرٹ پریس وغیرہ کے متعلق سارے کام کی نگرانی کا ارشاد فرمایا۔حضرت مولانا ابوالمنیر صاحب نے حضور کی ہدایات متعلقہ دفاتر کو بھجوائیں۔تبویب کی جو ایک جلد شائع ہوئی وہ خاکسار کی نگرانی میں نصرت آٹ پریس میں ہی شائع ہوئی۔301