زندہ درخت — Page 263
زنده درخت ہمارے لئے بے حد خوشگوار ہوتے ہم سب بہن بھائی ابا جان کے ارد گرد ہوتے آپ مختلف دلچسپ واقعات تاریخ احمدیت سے اور اپنے تجربات سے سناتے۔ہمارے سبق سنتے ساتھ ساتھ الفاظ درست کرواتے جاتے۔محاورے اور مشکل الفاظ کی وضاحت کرتے۔میرے قادیان کے چھوٹے سے واقعہ کا بہت لطف لے کر ذکر فرماتے۔کہ جب میں دکان کے لئے گھر سے نکلنے لگتا تو تم دونوں ہاتھ پاؤں پھیلا کر دروازے میں راستہ روک کر کھڑی ہو جاتیں کہ میں آپ کو راستہ نہیں دوں گی۔یہ بات قادیان میں ابا جان کو بہت دفعہ یاد آتی تھی۔ابا جان کو ہماری تربیت کا از حد خیال رہتا مجھے سمجھایا کہ ماں کی آنکھ سے کبھی اوجھل نہ ہونا۔چند منٹ کا بھی ضروری کام ہو تو بتا کر سلام کر کے جانا ہے۔آپ کی امی کو علم ہونا چاہئے کہ آپ کہاں ہیں اس طرح سلام کرنے کی اس قدر تاکید تھی کہ ہمیں کمرے سے صحن میں جاتے ہوئے بھی سلام کی عادت ہو گئی تھی۔پردے کے متعلق بتایا کہ گھر کے اندر سے نقاب ڈال کر نکلنا ہے اور اسکول و کالج کے دروازے کے اندر جا کر اُٹھانا ہے۔ایک دفعہ نادانی میں ابا جان سے پوچھ بیٹھی کہ جب میں پیدا ہوئی تو آپ کی چار بیٹیاں پہلے سے تھیں آپ کو یہ خیال آیا تھا کہ لڑکا ہوتا تو اچھا ہوتا۔اباجان نے مجھے غور سے دیکھا جس سے مجھے اندازہ ہو گیا کہ غلطی ہو گئی ہے پھر اپنے غصے پر قابو پاتے ہوئے کہا آپ کو یہ خیال کیسے آیا ہمارے رویہ سے یا کسی نے کچھ کہا ہے؟ ہم تو مٹھائی بانٹتے تھے جیسے بیٹا پیدا ہونے پر اور عقیقہ بھی دو بکروں کا کرتے تھے۔میرا نام بھی ایک تاریخی یادگار ہے۔جس خواب کی بنیاد پر حضرت مصلح موعود نے دعوی کیا تھا اس میں عبدالشکور کا ذکر تھا ان دنوں ایک جرمن نے احمدیت قبول کی۔حضرت خلیفہ اسیح الثانی نے عبدالشکور نام رکھا کنزے ان کا پہلا نام تھا۔اس وقت خاکسار کا نام رکھایا گیا جو حضور نے امتہ الشکور رکھا۔1975ء میں افریقہ سے پاکستان آئی تو امی جان میری بہن امتہ الباری ناصر کے ہاں مقیم تھیں کراچی سے فیصل آباد کا سفر امی جان کو ساتھ لے کر By Air کیا۔یہ امی جان کا پہلا اور آخری ہوائی سفر تھا کہنے لگیں اپنے ابا جان کو لکھنا وہ بہت خوش ہوں گے کیونکہ وہ کہا 263