زندہ درخت — Page 255
زنده درخت استاد نے جائزہ لیا تو اس بات پر حیران ہو گیا کہ بچہ بڑے بڑے سوال آسانی سے زبانی ہی حل کرتا جارہا ہے۔استاد صاحب نے شاگرد کو اپنی خوشنودی سے نوازتے ہوئے بازار سے تمبا کو خرید کر لانے کی خدمت تفویض کر دی۔اس خدمت کے دوران امتحان کا وقت نکل گیا یا یوں کہہ لیں کہ قدرت نے لائن تبدیل کر دی۔مدرسہ احمدیہ میں داخلہ لیا۔حضرت مولانا ابوالعطاء کے ساتھ جگہ ملی۔ایک بزرگ استاد کلاس میں داخل ہوتے ہی پیار و محبت کے اظہار کے طور پر پچھلے پیج پر بیٹھے طالب علموں کو ایک ایک ہاتھ رسید کرتے ہوئے آگے نکل جاتے۔یہ حسنِ سلوک عجیب لگا۔والد صاحب سے ذکر کیا۔انہیں اپنے کاروبار میں ایک مددگار کی ضرورت تھی۔بڑے بھائی بھی تو مدرسہ احمدیہ میں ہی پڑھ رہے تھے۔”بیٹا تم کاروبار میں میری مدد کیا کرو۔چھوٹی عمر میں ہی ذمہ داریاں سنبھال لیں۔ابھی کاروباری زندگی کا آغاز تھا۔کچھ کر گزرنے کا عزم تھا کہ جماعت کے عظیم رہنما نے تحریک فرمائی کہ چھوت چھات کی زنجیروں میں بندھے ہوئے لوگ ہماری اقتصادی حالت کو خراب و ابتر کرتے چلے جارہے ہیں۔اس لئے ہمیں چاہیے کہ ہم بھی وہ چیز ہیں جو وہ ہمارے ہاں سے نہیں لیتے ان کے ہاں سے لینا بند کر دیں۔اس قوم کی تجارتی اجارہ داری اور اقتصادی برتری کو دیکھتے ہوئے یہ اعلان ایسا انقلابی اور جرات مندانہ تھا کہ ایک دنیا حیران رہ گئی۔اس نوجوان نے یہ چیلنج اس طرح قبول کیا کہ اپنے پیارے رہنما کی تجویز کو قابل عمل بنانے اور زیادہ مفید و مؤثر کرنے کے لئے ملائی برف ،سوڈا واٹر اور مٹھائی بنانے کا کام نہ صرف شروع کر دیا بلکہ کئی نوجوانوں کو یہ کام سکھا کر انہیں بھی اس انتہائی مفید سکیم میں شامل کر دیا اور غیروں کی اقتصادی بالا دستی کے مقابل پر ایک نہایت مفید اور دور رس نتائج کی حامل تجویز کا ڈول ڈال دیا گیا۔اپنی محنت ذہانت اور استقلال سے کام لیتے ہوئے کاروبار کو اس انداز سے وسعت دی کہ لوگ یہ دیکھ دیکھ کر حیران ہونے لگے کہ چھوٹے اور معمولی کاموں میں بھی اتنا منافع ہوسکتا ہے۔ایک مصدقہ دستاویز کے مطابق تقسیم ہند کے وقت درویش کی قادیان میں جائیداد کی قیمت ایک لاکھ روپے سے زیادہ تھی۔( یہ اسوقت کی بات ہے جب گندم 5 روپے من اور دیسی گھی ایک 255