زندہ درخت

by Other Authors

Page 184 of 368

زندہ درخت — Page 184

زنده درخت کے فارم کے کروندے کا اچار تیار ہے منگوا کر تیل ڈال لیں وہ تو نہ ملے البتہ آپ کا خط مل گیا۔ترے کوچے میں کن راہوں سے آؤں : میں ایک دفعہ دہلی اپنے مقدمہ کے سلسلے میں ٹھہرا ہوا تھا۔احمد یہ بیت گیا تو دیکھا کہ بارش سے ایک دیوار گرنے سے حالت خستہ ہو رہی ہے میں نے مربی سلسلہ مولانا بشیر احمد صاحب سے کہا کہ مقدمہ کے سلسلہ میں مجھے دہلی ٹھہر نا ہی ہے اگر سامان تعمیر منگوادیں تو میں از راه ثواب اس دیوار کو ٹھیک کر دوں گا۔اُنہوں نے سیمنٹ ریت اینٹ مہیا کر دیں۔میں نے دو تین روز میں اُس کو مرمت کر کے چھت کو کھڑا کر دیا ایک جگہ تھوڑا فرش بھی بنایا پھر جب بھی بیت جاتا اُسے دیکھ کر خوشی ہوتی تھی کہ مولا کریم نے خدمت کا موقع دیا۔الحمد للہ مکانات کی دیکھ بھال کی ذمہ داری: "1953ء میں قادیان میں شدید بارشیں ہوئیں۔طوفانی رُخ اختیار کر لیا جیسے خدائی قہر ہو مکان گرنے لگے۔ٹپکنے لگے۔دیوار میں منہدم ہوئیں کوئی مکان ایسا نہ تھا جہاں کوئی ٹوٹ پھوٹ نہ ہوئی ہو لوگ سراسیمہ ہو کر گھر بار چھوڑ کر مسجدوں اور اسکولوں میں پناہ لینے لگے۔قیامت کا نظارہ تھا کپڑے بھیگے ہوئے سر پر تھوڑا سا سامان بچوں کو سنبھالے ہوئے قطار در قطار پناہ لینے کی خاطر آرہے تھے۔مجھے 1947 ء سے ہی مکانات کی دیکھ بھال کی ذمہ داری سونپی گئی تھی۔اس طوفان نوح میں ایک آتا بھائی جی ہماری چھت ٹپک رہی ہے دوسرا کہتا د یوار گر گئی ہے تیسرا کہتا شہتیر ٹوٹ گیا ہے۔میں تعمیر کا سامان اور دو آدمی ساتھ لے کر کبھی کسی طرف مدد کو دوڑتا بھی کسی طرف۔ہم نے حضرت صاحب کی خدمت میں دعا کی درخواست کا پیغام بھیجا۔راستے مسدود، سواری مشکل ، تار ٹیلیفون پر رابطہ منقطع آخر ایک جوان مرزا محمود احمد کو بھجوایا کہ کسی طرح جا کر دعا کے لئے عرض کرے کچھ عرصہ کو میرا مکان محفوظ رہا مگر جب وہ بھی ٹپکنے لگا تو سب کچھ چھوڑ کر بیت چلا گیا۔1947ء جیسی بے کسی بے 184