زندہ درخت

by Other Authors

Page 175 of 368

زندہ درخت — Page 175

زنده درخت حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتب فروخت کر رہا تھا۔ذرا فاصلے سے کھڑے ہو کر دیکھتار ہا سامنے نہ آیا کہ وہ شرمندہ نہ ہومگر بہت تکلیف ہوئی کہ کیا مجبوری ہوگی جو یہلڑ کا اس طرح قیمتی کتب بیچ رہا ہے۔بعد میں لڑکے کو ایک طرف لے جا کر پیار سے پوچھا کہ آپ یہ کتب رڈی والے کو کیوں پیچ رہے ہیں لڑکے نے بتایا کہ میرے نانا جان بیمار ہیں وہ خود ڈاکٹر تھے۔مگر علاج پر بہت خرچ ہو گیا ہے۔اب دوا کے پیسے نہیں تھے۔میں نے اس کی عزت نفس کا خیال رکھتے ہوئے کچھ مدد کی۔اور کہا کہ اگر کتب بیچنے کی ضرورت ہو تو سیدھے میرے پاس لے آنا۔“ درولیش کے اپنے بیوی بچوں کے نام ذاتی خطوط میں کتب کا ذکر رہتا۔جس شخص کا اوڑھنا بچھونا کتا بیں ہوں۔اُس کے خطوط میں بے ساختگی سے دلی جذبات نوک قلم تک آ جاتے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے خزائن کے بکھرے ہوئے ہیرے موتی سمیٹنے والا اُن کی قدر و قیمت خوب پہچانتا تھا۔کتابوں کو محفوظ کرتے ہوئے اپنے جگر گوشوں کے لئے دعائیں کرتے ہوئے کبھی یہ بھی خیال آتا کہ ناز و نعم میں پہلے لاڈلے بچوں پر نہ جانے کیسا وقت ہوگا۔ایسے میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے کتابیں ہی سہارا بنیں۔سب سے پہلا خط جو محفوظ ہے اُس میں تحریر ہے کہ ضرورت ہو تو کتا بیں بیچ دینا مگر اس میں احتیاط کا پہلو نمایاں نظر آتا ہے کتابیں اُسی حد تک بیچنا جس سے ضرورت پوری ہو جائے۔یہ خطوط کیا ہیں حالات اور جذبات کی ایک سچی حقیقی تصویر ہیں۔کچھ اقتباس ملاحظہ ہوں :- کچھ کتابیں بھیج رہا ہوں ضرورت پوری کرنے کے لئے فروخت کر دینا۔وقار عزت، آن کسی صورت سے کمزور نہ کرنا۔بھوک اور موت بھی عزت وقار سے ہو تو کامیابی ہے۔ور نہ کچھ بھی نہیں۔دنیا نے کبھی وفا کی ہے نہ کرنی ہے۔خرچ کم ہو تو کوئی بھی سامان خواہ کیسا ہی پیارا ہوفروخت کر دینا بچوں کو تنگی نہ رہے۔خدا تعالیٰ ہم سب کا حافظ و ناصر ہو۔ربوہ کی آبادی میں اضافہ مبارک ہو۔اللہ تعالیٰ اس آبادی کا حافظ و ناصر رہے۔روح القدس کے ذریعے حامی و ناصر ہو۔مولوی عبدالحمید بھینی والوں کے گھر والوں کی خیریت لکھیں وہ پریشان ہیں میں نے 175