زندہ درخت — Page 15
زنده درخت ایک امتیازی سند کی حیثیت رکھتی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام تحریر فرماتے ہیں: ایک نیا فرقہ جس کا امام اور پیر یہ راقم ہے پنجاب اور ہندوستان کے اکثر شہروں میں زور سے پھیلتا جاتا ہے اور بڑے بڑے تعلیم یافتہ مہذب عہدے دار اور نیک نام رئیس اور تاجر پنجاب اور ہندوستان کے اس فرقہ میں داخل ہوتے جاتے ہیں اور عموماً پنجاب کے شریف مسلمانوں کے نو تعلیم یاب جیسے بی اے، ایم اے اس فرقہ میں داخل ہیں اور داخل ہو رہے ہیں اور یہ ایک گروہ کثیر ہو گیا ہے جو اس ملک میں روز روز ترقی کر رہا ہے۔۔۔۔جس قدر لوگ میری جماعت میں داخل ہو رہے ہیں اکثر ان میں سے سرکار انگریزی کے معزز عہدوں پر ممتاز اور یا اس ملک کے نیک نام رئیس اور اُن کے خدام اور احباب اور یا تاجر یا وکلاء اور یائو تعلیم یافتہ انگریزی خوان اور یا ایسے نیک نام علماء اور فضلاء اور دیگر شرفاء ہیں جو کسی وقت سرکار انگریزی کی نوکری کر چکے ہیں اور یا اب نوکری پر ہیں یا اُن کے اقارب اور رشتہ دار اور دوست ہیں جو اپنے بزرگ مخدوموں سے اثر پذیر اور یا سجادہ نشینان غریب طبع۔۔اور یا وہ لوگ جو میرے اقارب یا خدام میں سے ہیں ان کے علاوہ ایک بڑی تعداد علماء کی ہے۔میں مناسب دیکھتا ہوں کہ اُن میں سے اپنے چند مریدوں کے نام بطور نمونہ آپ کے ملاحظہ کے لئے ذیل میں لکھوں۔66 رام میرزاعلام احمد از مفت ادیان ضلع گورداسپور 24 فروری1898ء ( مجموعہ اشتہارات جلد-3 روحانی خزائن جلد 13 صفحہ 356) نظام وصیت میں شامل ہونے والے اولین میں شامل تھے آپ کا۔۔7 وصیت کا اعلان الحکم 24 مارچ 1907ء میں شائع ہوا جس میں تحریر ہے: 21 مئی 1906 ء میں اقرار کرتا ہوں کہ کہ میں حضرت مرزا غلام احمد صاحب سلمہ مسیح 15