زندہ درخت — Page 107
زنده درخت لکھائی بہت خوبصورت تھی۔چاک سے موٹا لکھنے کی مہارت رکھتے تھے۔صرف اپنی دکان پر ہی نہیں جماعتی اطلاعات کے بورڈ پر بھی کوئی اطلاع لکھنا بھی آپ کے سپر د تھا۔) حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد قمر الانبیاء ( اللہ آپ سے راضی ہو ) میری نو جوانی کی عمر سے مجھے اچھی طرح جانتے اور بہت شفقت فرماتے۔مجھے یاد ہے ایک دفعہ بلا کر فرمایا: ”میاں آپ صاحب اولاد ہیں۔اولاد کے لیے جائیداد بنانے کی طرف توجہ دیں“ ( سبحان اللہ! اللہ والوں کی باتوں کے خلوص میں بھی قبولیت کا رنگ ہوتا ہے اولا د کیلئے جائیداد بنانے کی طرف توجہ دلانیوالے کو اس وقت خواب و خیال بھی نہ ہو گا کہ دراصل یہ جائیداد اولاد کے کام نہیں آئے گی۔بلکہ خود وہ روحانی باپ کی طرح اس اولاد کی سر پرستی فرمائیں گے۔دنیا وی جائیداد تو کام نہ آئی روحانی جائیداد سے حصہ وافر ملا۔) چنانچہ میں نے آپ کے فرمان سے پس انداز کرنا شروع کیا اور کافی جائیداد بنا لی۔میں جس دکان میں کام کرتا تھا وہ حضرت نواب محمد علی خان صاحب کی ملکیت تھی۔مختار حضرت مرزا بشیر احمد صاحب مرحوم مغفور تھے۔ایک دفعہ دُکان کے کرایہ پر بات ہورہی تھی جو مجھے زیادہ لگ رہا تھا، پہلے کم تھا پھر چھ روپے ہو گیا تھا۔آپ نے مجھے سمجھایا کہ کرایہ مناسب ہے۔آپ کے سمجھانے کا انداز بہت اچھا تھا۔فرمایا اگر آپ کو کرایہ زیادہ لگ رہا ہے تو نیلام کر دیتے ہیں جو زیادہ کرایہ دے اُس کو دے دیں گے، اب اڈا بن جانے کی وجہ سے بہت زیادہ کر ا ی ل سکتا ہے اور میاں میں جانتا ہوں آپ کو خدا نے ایسا دماغ عطا کیا ہے کہ اگر ایک بورڈ تحریر کریں (بطور اشتہار ) تو شہر کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک آپ کے پر لطف و جذب بورڈ پڑھنے لوگ آ جاتے ہیں۔جس سے بکری میں ماشا اللہ اضافہ ہوتا ہے۔اس طرح مجھے بورڈ لکھنے پر داد بھی مل گئی۔ایک اور ایمان افروز واقعہ میری اہلیہ صاحبہ نے بیان کیا کہ ربوہ کے ابتدائی زمانے کی بات ہے ایک رات دیر 107